منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کے لائن لاسزکی کی مدمیں صارفین پر کتنے ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا گیا؟آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن )ملک کی 10بڑی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ایک سال کے دوران 157 ارب روپے کے لائن لاسز کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا. آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے 18-2017 کے مطابق ایک سال کے دوران ملک کی 10 بڑی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی

28 ارب یونٹس بجلی لائن لاسز کی نذر ہوگئی، جس کی مجموعی مالیت 157 ارب روپے سے زائد تھی اور لائن لاسز کی مد میں خسارے کا بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑا.رپورٹ کے مطابق لائن لاسز میں حیسکو (حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی) سر فہرست رہی جس کا اس مد میں خسارہ 49ارب 51 کروڑ روپے رہا، سیپکو 37 ارب 73 کروڑ سے زائد کے لائن لاسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، پیسکو کی جانب سے 29ارب روپے سے زائد کے لائن لاسز رہے، کیسکو کے 19ارب 22 کروڑ، لیسکو کی جانب سے 7 ارب 62 کروڑ روپے ، میپکو کی جانب سے 7 ارب19کروڑ روپے جب کہ آئیسکو دس لاکھ 70ہزار روپے پر کم لائن لاسز والی کمپنی نکلی.آڈٹ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے لائن لاسز کی وجہ فیڈرز کے درمیان طویل فاصلہ، ناقص سب اسٹیشنز،غیر قانونی کنکشنز،غیر حقیقی اہداف اور فیڈرز کی غلط کوڈنگ کو قرار دیا ہے. اس حوالے سے ڈیپارٹمنٹل آڈٹ کمیٹی (ڈی اے سی) نے ذمہ داروں کے تعین اور معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے جب کہ آڈٹ حکام نے ڈی اے سی کی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی سفارش کی ہے. رپورٹ برائے 18-2017 کے مطابق ایک سال کے دوران ملک کی 10 بڑی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی 28 ارب یونٹس بجلی لائن لاسز کی نذر ہوگئی، جس کی مجموعی مالیت 157 ارب روپے سے زائد تھی اور لائن لاسز کی مد میں خسارے کا بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…