تاجر گروپوں کی بڑی تعداد کالاہور چیمبر کے الیکشن میں پیاف فائونڈرز اتحاد کی حمایت کا اعلان

  جمعہ‬‮ 30 اگست‬‮ 2019  |  16:20

لاہور(این این آئی ) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ انتخابات کی مہم زور و شور سے جاری ہے اور کارنر میٹنگز کے ساتھ ساتھ لابنگ اور کنویسنگ بھی کی جارہی ہے۔ انتخابات کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین اور انتخابی مہم کےقائد افتخار علی ملک نے کہا کہ تاجر گروپوں کی ایک بڑی تعداد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پیاف فائونڈرز اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پیاف فائونڈرز اتحاد


کی طاقت کا توڑ کرنا مشکل ہے اور پیاف فائونڈرز اتحاد آئندہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اردو بازار ، گنپت روڈ ، بادامی باغ ، شاہ عالم مارکیٹ ، بیڈن روڈ ، ٹمبر مارکیٹ ، لنڈا بازار ، انارکلی ، فیروز پور روڈ ، برانڈرتھ روڈ ، سرکلر روڈ ، ریلوے روڈ ، میکلوڈ روڈ ، بلال گنج ، پلاسٹک مارکیٹ ، چیمبرلین مارکیٹ ، انارکلی ، سمن آباد ، جیل روڈ ، اچھرہ ، ہال روڈ ، اسٹیل شیٹ مارکیٹ ، اکبری منڈی ، سبزی منڈی ، رنگ محل ، نیلا گنبد سمیت تقریبا تمام بڑی مارکیٹوں نے لاہور چیمبر کے الیکشن میں پیاف فائونڈرز اتحاد کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور ہر سطح پر ایک حقیقی بزنس لیڈرشپ ہی ملک کو ان معاشی مسائل سے نکالنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیاف فائونڈرز اتحاد کی قیادت میں لاہور چیمبر کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ افتخار ملک نے کہا کہ لاہور چیمبر کے انتخابات اب صرف ووٹنگ کے دن تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ عمل پورے سال پر محیط ہے کیونکہ منتخب ممبران سال بھر ووٹرز سے رابطے میں رہتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎