منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف اہداف کا حصول ناممکن ہے،عالمی ادارے کی شرائط 80لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل دے گی، میاں زاہد

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے معیشت کو لاحق بیماریوں کامناسب علاج تجویز کئے بغیر ناممکن اہداف دئیے ہیں جن کا حصول ناممکن ہے۔اہداف میں ناکامی آئی ایم ایف کی سہہ ماہی پڑتال میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ درجنوں بار غیر ملکی قرضے لینے کے باوجود معیشت مستحکم نہیں ہو سکی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انکی شرائط معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے صرف بحران ٹالنے میں مددگار ہوتی ہیں۔آئی ایم ایف کی شرائط سے عوام کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے امیر و غریب کے مابین فرق بڑھ جاتا ہے اور ملکی ترقی کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ موجودہ پروگرام کے نتیجہ میں ملک میں غریبوں کی تعداد میں کم از کم 80لاکھ افراد کے اضافہ کا اندیشہ ہے۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند سال میں معیشت نے5 فیصد ترقی کی مگر ٹیکسوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا۔امسال معیشت کی شرح نمو 2.4 فیصد رہے گی جبکہ محاصل میں 35 فیصد اضافہ کا ہدف دیا گیاہے جو حیران کن ہے۔نئے اہداف کی وجہ سے ملک بھر میں ہیجانی کیفیت ہے اور تاجر ہڑتالیں کر رہے ہیں جبکہ صنعتی شعبہ بھی احتجاج کر رہا ہے۔نئے ٹیکس اہداف کا شورزیادہ مگر حصول کم ہے۔انھوں نے کہا کہ بجٹ اقدامات کے نتیجہ میں حکومت کی آمدنی میں 1.8 کھرب روپے تک کا اضافہ متوقع ہے تاہم اس سے سماجی شعبہ کو فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ ایک کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائینگے۔آئی ایم ایف نے امسال برآمدات میں آٹھ فیصد اضافہ کا اندازہ لگایا ہے جبکہ حقیقت میں برآمدات گر رہی ہیں۔اس ادارے نے کہا ہے کہ پانچ سال میں پاکستان کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک بڑھ جائیں گی جبکہ اگلے مالی سال میں سات کھرب کے محاصل وصول کئے جائیں گے جس پر موجودہ پالیسیوں اوربلند شرح سود کی موجودگی میں یقین مشکل ہے۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے سی پیک پر زیادہ توجہ دینے، سرمایہ کاری میں اضافے اور امریکہ کی مدد سے آئی ایم ایف کی شرائط نرم کروانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…