منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی سے پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کیلئے 33.6 ارب روپے کا منصوبہ

datetime 18  جولائی  2019 |

کراچی(آن لائن)سندھ حکومت ورلڈ بینک کی مدد سے آئندہ سال سے33.6ارب روپے کا مسابقتی اورپائیدار کراچی شہر کا منصوبہ شروع کررہی ہے جو5 سال میں مکمل ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کی قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر مس میلنڈا گوڈس کی قیادت میں2 رکنی وفدکیساتھ اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی شہر کا منصوبہ شروع کررہی ہے جو5 سال میں مکمل ہوگا۔ منصوبے کا مقصد کراچی

میٹروپولیٹن کارپوریشن اور تمام6 ضلعی میونسپل کارپوریشن، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ شہر میں تفصیلی پراپرٹی سروے کے حوالے سے تعاون کرنا ہے۔ وفد میں مس امینہ راجا سینئر ورلڈ بینک آپریشن آفیسر بھی شامل تھیں۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی محکمہ سرمایہ کاری کیساتھ اس منصوبے کے تحت کاروبار کو سہل بنانے کے حوالے سے مثبت اقدامات کے لیے تعاون کیا جائیگا۔اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ ودیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ کے ایم سی، ڈی ایم سیز، ضلعی کونسل اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کیساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کریں تاکہ پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے باضابطہ طورپر حکمت عملی وضع کی جاسکے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میں شہر میں لوکل باڈیز کومالی طورپر مستحکم کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ وہ کافی حد تک خود کفیل ادارے بن سکیں۔ اس منصوبے کے تحت متعلقہ لوکل باڈیز کی پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے استعداد کار میں اضافہ کیاجائیگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کی اہم کوآرڈی نیٹنگ ایجنسی صوبائی محکمہ بلدیات ہوگا۔ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کیا جائیگا تاکہ کراچی کی لوکل کونسلز کو فنی امداد فراہم کی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…