علامہ اقبال اوپن اور نمل یونیورسٹی کو 1995 سے اب تک ٹیکس دینے کا حکم

  جمعرات‬‮ 11 جولائی‬‮ 2019  |  16:26

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے علامہ اقبال اوپن اور نمل یونیورسٹی کو 1995 سے ابتک ٹیکس دینے کا حکم دیتے ہوئے نظر ثانی درخواستیں خارج کردیں جبکہ ججز نے ریمارکس دئیے ہیں اگر آپ کو ٹیکس نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو کیا ٹیکس دینے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ،ایسا نہیں ہو سکتا باقیوں سے ٹیکس لیں اور آپ سے نہ لیں ۔جمعرات کو اوپن اور نمل یونیورسٹی کی ٹیکس سے متعلق نظر ثانی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ وکیل اوپن یونیورسٹی نے


کہاکہ ہمیں 1995 سے 2001 تک کوئی ٹیکس نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، 2001 میں نوٹیفکیشن میں 1995 سے ٹیکس دینے کا کہا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر نوٹیفیکیشن نہیں دیا گیا تو کیا ٹیکس دینے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ2001 کے نوٹیفیکیشن کو1995کے نوٹیفکیشن پر ترجیح حاصل ہے۔ انہوںنے کہاکہ نئے نوٹیفکیشن میں تھوڑی سی تبدیلی کی گئی ہے اور کچھ نہیں کیا۔ وکیل نے کہاکہ سی ڈی اے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دو روز تاخیر سے درخواست دائر کی۔ وکیل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے کہاکہ ہائی کورٹ نے ہمیں ریلیف دے دیا تھا، میں نے بہت سے فیصلوں کا حوالہ جن کے مطابق ایک روز تاخیر سے دائر ہونے والے درخواست بھی قابل سماعت نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس مقدمے کی نوعیت مختلف ہے اس میں قانون ڈکلیئر کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جہاں قانون ڈکلیئر کرنا ہو وہاں زائد المیعاد کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ یہ ٹیکس کا معاملہ ہے ،یسا نہیں ہو سکتا باقیوں سے ٹیکس لیں اور آپ سے نہ لیں ۔ وکیل نے کہاکہ 1991 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے ۔ سر کاری وکیل نے کہاکہ صرف نیم سرکاری و سرکاری اداروں کا استثنیٰ حاصل تھا۔ سر کاری وکیل نے کہاکہ 1995کے جاری نوٹیفیکیشن میں ٹیکس عائد کر دیا گیا، نوٹیفیکیشن کے مطابق صرف فلاحی کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہاکہ نمل یونیورسٹی کے وکیل نے گزشتہ روز التوا کی درخواست دی، التوا کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وکیل بیرون ملک ہیں۔ عدالت نے کہاکہ وکیل عدالت میں پیش نہیں ہو سکا، نظر ثانی درخواست میں التوا نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہاکہ نظر ثانی درخواستیں میرٹ پر پوری نہیں اتر رہی، ہائی کورٹ نے دونوں یونیورسٹیز کو 1995 سے ٹیکس دینے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ نے نظر ثانی درخواستیں خارج کر تے ہوئے کہاکہ دونوں یونیورسٹیز 1995 سے ٹیکس دیں گی۔دونوں یونیورسٹیز نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

موضوعات:

loading...