پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

یہ ہے عوام دوست بجٹ؟ امیروں کیلئے گاڑیاں سستی اور غریبوں کیلئے مہنگی

datetime 12  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن ) وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ میں 1700 سی سی اور اس سے زیادہ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی جب کہ چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ تجویز کر دیا ہے۔حکومت نے بجٹ میں 1000 سی سی اور اس سے کم طاقت کی گاڑیوں پر ٹیکس عائد کر کے انہیں مختلف سلیبس میں تقسیم کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ 1000 سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیوں پر 2 اعشاریہ 5 فیصد ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایک سے 1000 سی سی تک کی گاڑیاں ٹیکس سے مستثنیٰ تھیں۔حماد اظہر نے بتایا کہ 1000 سی سی سے 2000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے 1700 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد تھی جسے اب آدھا کر دیا گیا ہے۔اسی طرح 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کر کے 7 اعشاریہ 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام نے متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں اضافہ اور ان کی اپنی سواری کے خواب کو حقیقت سے دور کر دیا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1000 سی سی اور اس کے کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے ظلم کیا ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1000 سی سی سے بڑی گاڑیاں عموماً امیر طبقہ رکھتا ہے جو ٹیکس دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے لیکن ان پر ٹیکس کم کر کے متوسط طبقہ پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانا کسی بھی طور پر غریب دوستی نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…