جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گندم اور آٹے کے شدید بحران کا خدشہ 30روپے کلو میں بکنے والی گندم اب کتنے میں فروخت ہونے لگی؟

datetime 13  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)گندم کی یومیہ بنیادوں پرپنجاب ترسیل سے سندھ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا نیا بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ فلورملز مالکان نے گندم کی ممکنہ قلت اور قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافے کے خطرات کے پیش نظرسندھ سے گندم کی بین الصوبائی منتقلی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید یوسف نے اس ضمن میں بتایا کہ سندھ سے یومیہ

10 ہزار ٹن گندم کی پنجاب کوترسیل کی جا رہی ہے جس سے سندھ میں 20 روز قبل سیزن کے آغاز پر 30 روپے فی کلوگرام پرفروخت ہونے والی گندم کی قیمت 3 روپے 50 پیسے کے اضافے سے 33 روپے 50 پیسے کی سطح پر آگئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں 15 تا 20 فیصد گندم کی فصل ضائع ہوگئی ہے جبکہ گندم کی کوالٹی بھی20فیصد متاثر ہوئی ہے جس کے باعث سندھ سے گندم کی یومیہ1لاکھ بوریوں کی باقاعدگی کے ساتھ ترسیل ہورہی ہے۔ اس طرح سے گذشتہ 20 روز میں سندھ سے مجموعی طورپر 2لاکھ ٹن گندم پنجاب منتقل ہوچکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ کی پیداوار 45 لاکھ ٹن اور کھپت بھی45لاکھ ٹن ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں سندھ سے گندم کی ترسیل پر پابندی عائد نہ کی گئی توگندم وآٹے کی قیمتوں کا نیابحران پیداہوجائے گا۔انھوں نے بتایا کہ سندھ کے پاس گندم کے صرف5لاکھ ٹن کے ذخائر ہیں لیکن اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہے لہذا صوبے میں آٹے کی ضروریات کو سندھ میں پیدا ہونے والی گندم کی تازہ فصل سے ہی پورا کرنے پر انحصار ہے۔ انھوں نے وزیر اعلی سندھ سید مرادعلی شاہ سے اس ضمن میں فوری طور پر مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیرخوراک اورسیکریٹری خوراک کو متعددخطوط کے ذریعے پیشگی آگاہ کردیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے اس سنگین معاملے پر سردمہری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…