جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گراں فروشو ں کا محاسبہ کرنے کیلئے یونین کونسل کی سطح پر کنزیومر کونسلزقائم کی جائیں‘ سابق چیئرمین پی سی سی

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) رمضان المبارک میں گراں فروشو ں کا محاسبہ کرنے کیلئے یونین کونسل کی سطح پر کنزیومر کونسلزقائم کی جائیں ،سبزیوں ، پھلوں اور اشیائے خوردونوش کی طلب کے مطابق رسد کو یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں اعدادوشمار مرتب

کرنے کا ڈیجیٹل سسٹم ہونا چاہیے جبکہ انتظامیہ اور تھوک منڈیوں میں رابطوں کیلئے فوکل پرسنز تعینات کئے جائیں،مہنگائی کی شرح کو روکنے کیلئے گیس، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی صورت اضافہ نہ کیا جائے ۔ سابق چیئرمین پرائس کنٹرول کمیٹی میاں عثمان نے رمضان المبارک میں گراں فروشوں سے نمٹنے اورعوام کو ریلیف دینے کیلئے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ منافع خور مافیا نے رمضان المبارک سے قبل ہی پھلوں ، سبزیوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں از خود اضافہ کر دیا ہے جبکہ کوئی میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ بالکل ناکام نظر آرہی ہے ۔یونین کونسلوں کی سطح پر کنزیومرز کونسلز قائم کی جائیں جنہیں سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کو یقینی کا ٹاسک سونپا جائے ۔انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں کے حوالے سے عوام تذبذب کا شکار ہیں اور اس کی اوپن مارکیٹ میں قیمت 70روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کی رمضان بازاروں اور فیئر پرائس شاپس تک رسائی ممکن نہیں اس لئے شوگر ،فلور ملوں سمیت دیگر انڈسٹریز کو براہ راست سبسڈی بھی دی جائے تاکہ عوام کو گلی محلے کی سطح پر بھی ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد نوش میسر آ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کوریلیف کا ارادہ رکھتی ہے تو گراں فروشوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈائون شروع کیا جائے اور ان سے کسی بھی طرح کی رعایت نہ برتی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…