جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف سے قرضہ کے عوض 600ارب کے نئے ٹیکسزسے ہوشربا مہنگائی جنم لے گی‘خادم حسین

datetime 26  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) سینئر نائب صدر فیروز پور بور ڈلاہور و پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین نے حکومت کی طرف سے عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف ) سے قرضے کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے اگلے مالی سال میں600ارب کے نئے ٹیکس لگانے پر آمادگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 600ارب کے نئے ٹیکسز سے ملک میں

ہوشربا مہنگائی جنم لے گی جس سے صنعتی شعبہ سمیت تمام مکاتب فکر متاثر ہونگے ۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سابق وزی خزانہ کے وزارت خزانہ کے قلمدان کے دوران آئی ایم ایف کے مطالبات مانے جاتے رہے جس کے تحت روپے کی قدر میں کمی کی گئی اور ڈالر پر کنٹرول ختم کردیا گیا جس سے ڈالر کی قیمت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا جس سے صنعتی شعبہ شدید متاثر ہوا ۔ خادم حسین نے کہاکہ ملکی معیشت اس وقت استحکام کے مرحلہ میں ہے ۔وزیراعظم کے بعد مشکل ترین عہدہ وزیر خزانہ کا ہے ،ہمیں مشکل ترین فیصلہ کرنا ہونگے نئے وزیر خزانہ کو بھی مشکلات کاسامنا ہے وہ معاشی خودانحصاری کا اعلان کرتے ہوئے آئی ایم ایف کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہیں کیونکہ آئی ایم ایف کا پروگرام لینے سے کبھی بھی ملک میں بہتری نہیں آئی بلکہ عوام قرضوں کی دلدل میں دھنستا گیا۔غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی صنعتی ترقی کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک معیشت اور برآمدات بہتر ہوں اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے حکومت کو بیرونی قرضوں سے نجات مل جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…