جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تاجر الائنس نے صدارتی نظام کو ملکی مسائل کا حل قرار دیدیا

datetime 23  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) کراچی تاجرالائنس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وبانی عام آدمی پاکستان ایاز میمن موتی والا نے تاجر الائنس نے صدارتی نظام کو ملکی مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت بہت کمزور ہے ا س میں زیادہ تر اسمبلیوں اور دیگر وفاقی عہدوں پردولت مند لوگوں کی اجارہ داری قائم رہی ہے ،جمہوریت کا نام لیکر پاکستانی سیاست پر زیادہ تر دولت مند ٹولہ قابض رہاہے۔

ان خیالات کااظہارانہو ں نے ڈیفنس آفس میں تاجر الائنس کے وفد سے ہونے والی ملاقات میں کیا،ان کا کہنا تھا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام بھی مکمل طور پر ناکام ہوچکاہے ،ملک میں مسائل کم ہونے کی بجائے دن دبدن بڑھ رہے ہیں،ملک میں سیاسی افراتفری بھی پارلیمانی نظام کے ساتھ ہی دفن ہوجائیگی ،اگر تحریک انصاف کی حکومت صداتی نظام کو لانا چاہتی ہے تو اس سلسلے میں کراچی کے تاجر حکومت کا بھرپور ساتھ دینگے ۔انہوں نے کہاکہ اس ملک میں اصل مسئلہ مہنگائی او ر بے روزگاری کا ہے جس کی بنیادی وجہ ملکی معیشت میں کمزوریاں ہیں جنھیں دور کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی ،جبکہ عوام کو آمریت اور جمہوریت کے ناموں میں الجھا دیاجاتاہے جبکہ اصل معاملہ ایسے لوگوں کاعوام کی توجہ ہٹانا ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں زیادہ تر ترقی ان ہی ادوار میں ہوئی ہیں جب جب ملک صدارتی نظام نافذ رہاہے اور اس ملک کا تاجراور عام آدمی خوشحال رہاہے ۔کیونکہ پارلیمانی نظام کو صرف مفادپرستی کے لیے استعمال کیاجاتاہے ،اور آج قوم بھی موجودہ طرز حکومت سے بے زار دکھائی دیتی ہے ، جبکہ حکومت نے بھی اپنے نو ماہ کے اندر عوام کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہ دیاہے اس کے باوجود اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ صدارتی نظام لاکرعوام کو کچھ ڈیلیور کرسکیں گے تو انہیں اس بات کا ضرور موقع ملنا چاہیے ،انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں آج بھی غریب اور امیر کے لیے قانون الگ الگ ہیں یہ وہ معاملات ہیں جن پر توجہ دیئے بغیرہم مدینہ کی ریاست ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…