جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

واہگہ ،طورخم اور چمن باڈر پر بین الاقوامی تجارتی ، ٹرانسپورٹ لاجسٹک سے متعلق کاروباری عمل کی صلاحیت میں اضافے کیلئے اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) واہگہ ،طورخم اور چمن باڈر پر بین الاقوامی تجارتی اور ٹرانسپورٹ لاجسٹک سے متعلق کاروباری عمل کی صلاحیت میں اضافے کیلئے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کرتے ہوئے اتھارٹی کے قیام اور آپریشنلائزیشن کیلئے مشاورتی فرمز اورکن سلٹنٹس سے درخواستیں طلب کر لی گئیں ۔ فیڈرل بورڈ آف ریو نیو کو اس منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری ایجنسی کا کردار سونپا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹرانزٹ مرکز کے طور پر اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان نے انیٹگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کیاہے جس کا مقصد تجارت خصوصاً برآمدات میں اضافہ اورکاروباری لاگت میں کمی کیلئے کاروباری مسابقت اورسہولیات میں اضافہ کرنا ہے ۔بین الاقوامی اورٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں میں پیچیدہ بارڈر کراسنگ ، کسٹم طریق کار اوربندرگاہوں پر موجود ناکافی فزیکل انفراسٹرکچر سہولیات شامل ہیں ۔ ان رکاوٹوں پرقابوں پانے کیلئے حکومت پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے طورخم ،چمن اورواہگہ کے تین بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی تعمیر کے لئے قرض حاصل کیا ہے ۔ سرحدی پوائنٹس پر مختلف ایجنسیوں کے زیرانتظام سہولیات کی نگرانی اور دیگر اندرونی خشک بندرگاہوں پر سامان اورلوگوں کی سرحد کی دونوں جانب آمدو رفت کی مربوط نگرانی کیلئے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی اس کا کردار بین الاقوامی سرحدوں سے سامان ،لوگوں اور گاڑیوں کی موثر اوربروقت آمدو رفت کو یقینی بنانا ہوگا ۔ جس کا مقصد بین الاقوامی تجارتی اور ٹرانسپورٹ لاجسٹکس سے متعلق کاروباری عمل کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے ۔ منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری ایجنسی فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے جس نے مشاورتی فرمز سے خدمات کیلئے درخواستیں طلب کرلی ہیں جو پی ایل پی اے کے قیام اوراس کی آپریشنلائزیشن کے لئے مشاورتی فراہم کریں گی ۔ پلاننگ و ڈیزائن ، اسٹیبلشمنٹ ، ٹرانزیشن اور بی سی پی کا کنٹرول ، آپریشن مینٹیننس اورگروتھ ، کنسلٹنٹس خشک بندر گاہوں پر اہم امور خدمات انجام دینے والی ایجنسیوں کی طورخم ، چمن اور واہگہ کے تین بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر اس کے قیام اور پرآپریشنلائزیشن میں معاونت کرے گی ۔ کنسلٹنٹس کی ٹیم کی سربراہی ایک ٹیم لیڈر ٹریڈ

فیسیلیٹیشن اینڈ پورٹ آپریشنز سپیشلسٹ کرے گا جبکہ ٹیم متعلقہ شعبہ سے منسلک بین الاقوامی اور قومی ماہرین پر مشتمل ہوگی ۔جس میں بین الاقوامی ماہرین کی تعداد60جبکہ قومی ماہرین کی تعداد130ہو گی جنکی اسائنمنٹ کی مدت 36مہینے ہو گی ۔ دلچسپی رکھنے والے کنسٹلنٹس اتحاد کرسکتے ہیں جبکہ بین الاقوامی فرمز ،مقامی فرمز

کے ساتھ مشترکہ منصوبے یا ذیلی مشاورت کے ذریعہ اتحاد کرسکتی ہیں ۔ کنسلٹنٹس کی بھرتی کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی اے بی ڈی اور اس کے قرض دہندگان کی جانب سے کنسلٹنٹس کے استعمال سے متعلق پروکیور منٹ ہدایات کے مطابق ٹیکنیکل پرپوزل طریقہ کار پر کی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…