جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان فرنیچر کونسل نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کو بجٹ تجاویز پیش کردیں : چیف ایگزیکٹو پی ایف سی

datetime 20  اپریل‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی )پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے ملک کے فرنیچر پروڈیوسرز کی جانب سے وفاقی بجٹ 2019-20 کے لئے بجٹ تجاویز وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کو پیش کردیں،ان بجٹ تجاویز میں فرنیچر برآمدات کو فروغ دینے کے لئے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ فرنیچر سیکٹر کو مکمل صنعت کی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بات میاں کاشف اشفاق نے ہفتہ کو پی ایف سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر سیکٹر کے تحفظ کے لئے مثبت فیصلوں اور پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ صنعت درست طور پر آگے بڑھ سکے۔ اس وقت ہم قیمتوں اور ماہر لیبر کی دستیابی کے مسائل کی وجہ سے چائنیز مارکیٹ سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے اس سلسلے میں حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہاس شعبے کو مستحکم بنانے کے لئے آئندہ بجٹ میں مراعات دی جائیں گی۔ میاں کاشف اشفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرنیچر کی برآمدات کے فروغ کے لئے اس شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دینے کے علاوہ کاریگروں کی تربیت اور فرسودہ مشینری کو جدید مشینری سے تبدیل کرنے کے لئے مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مارکیٹ کے حالات سے مکمل آگاہی اور اس صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے، اس کے تحفظ، ترقی اور فروغ کے لئے اس شعبے کے ساتھ زیادہ قریبی رابطے استوار کرے تو بہتر نتائج بآمد ہو سکتے ہیں۔ حکومت اس شعبہ کے فروغ کیلئے دنیا بھر میں کاروباری و تجارتی میلوں میں شرکت کے طریق کار کو سہل اور اس مقصد کیلئے گرانٹس کے حصول میں آسانیاں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تقریباً چار ارب روپے کا فرنیچر درآمد کرتا ہے جبکہ اس کی برآمدات صرف 70 کروڑ روپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی کیلئے فرنیچر مینوفیکچررز اور برانڈز کو مطلوبہ معاونت فراہم کی جائے تو یہ صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور فرنیچر مصنوعات عالمی منڈیوں میں جگہ بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند افرادی قوت کو مناسب سہولیات اور ماحول فراہم کر کے مقامی کارکنوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا

سکتا ہے جس سے انہیں بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی وزیر اعظم عمران خان سے امید کرتی ہے کہ وہ اقتصادی حکمت عملی کی تشکیل سے قبل سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں گے۔ پی ایف سی معاشی استحکام اور موجودہ مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے حکومتی پالیسیوں کی بھر پور حمایت کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…