زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس شعبے کے استحکام کیلئے پالیسی میں اصلاحات لانا ہوں گی : لاہور چیمبر

  جمعہ‬‮ 19 اپریل‬‮ 2019  |  13:55

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ زرعی شعبہ میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تباہی سے متاثرہ کسانوں کی فوری معاونت کرے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ناصرف گندم اور دیگر فصلوں کوبری طرح نقصان پہنچا ہے۔ بلکہ وسطی اور جنوبی پنجاب کے کسانوں کو بڑا مالی دھچکا لگا ہے۔صرف پنجاب میں ہی گندم کی تقریبا ڈیڑھ لاکھ ٹن ،کٹائی کے لئے تیار فصل


مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو نقصان اور کسانوں کو معاوضہ دینے کا تخمینہ لگانے کیلئے فورا سروے کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں نے نہ صرف گندم کی تیارفصل تباہ کی ہے بلکہ اس سے کپاس اور دیگر فصلوں کی بوائی بھی تاخیر کا شکار ہو گی، جو ملکی معیشت کے لئے اچھی بات نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،تاہم اس شعبے کے استحکام کیلئے پالیسی میں اصلاحات لانا ہوں گی، ورنہ آئندہ دو دہائیوں میں ہمارا فی ہیکٹر کاشتکاری رقبہ کم ہو جائے گا اور غذائی پیداوار میں 30فیصد تک کمی واقع ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستا ن چار بڑی فصلوں کی پیداوار میں دنیا کے سب سے زیادہ پیداوار رکھنے والے تین ممالک ، جن میں چائنہ اور مصر بھی شامل ہیں ، اس سے تین گنا پیچھے ہے۔ پاکستان کی 43فیصد افرادی قوت زراعت کے شعبے سے منسلک ہے، تاہم کم پیداوارسے دیہاتی علاقوں میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے ، ساتھ ہی ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زرعی درآمدات بھی بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں چائنہ کی کپاس اور گندم کی فی ہیکٹر پیداوار دوگنا جبکہ مصر کی چاول اور گنے کی فی ہیکٹر پیداوار تین گنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر امدادی اقدامات کرے۔ کسان فصل کی تیاری میں بیج ، پیسٹیسائیڈز(کیڑے مار ادویات) اور دیگر اخراجات کیلئے قرضے لیتے ہیں۔اگرحکومت کی جانب سے ان کی مدد نہ کی گئی تو کسان دیوالیہ ہو جائیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎