جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس شعبے کے استحکام کیلئے پالیسی میں اصلاحات لانا ہوں گی : لاہور چیمبر

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ زرعی شعبہ میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تباہی سے متاثرہ کسانوں کی فوری معاونت کرے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ناصرف گندم اور دیگر فصلوں کو

بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ بلکہ وسطی اور جنوبی پنجاب کے کسانوں کو بڑا مالی دھچکا لگا ہے۔صرف پنجاب میں ہی گندم کی تقریبا ڈیڑھ لاکھ ٹن ،کٹائی کے لئے تیار فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو نقصان اور کسانوں کو معاوضہ دینے کا تخمینہ لگانے کیلئے فورا سروے کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں نے نہ صرف گندم کی تیارفصل تباہ کی ہے بلکہ اس سے کپاس اور دیگر فصلوں کی بوائی بھی تاخیر کا شکار ہو گی، جو ملکی معیشت کے لئے اچھی بات نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،تاہم اس شعبے کے استحکام کیلئے پالیسی میں اصلاحات لانا ہوں گی، ورنہ آئندہ دو دہائیوں میں ہمارا فی ہیکٹر کاشتکاری رقبہ کم ہو جائے گا اور غذائی پیداوار میں 30فیصد تک کمی واقع ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستا ن چار بڑی فصلوں کی پیداوار میں دنیا کے سب سے زیادہ پیداوار رکھنے والے تین ممالک ، جن میں چائنہ اور مصر بھی شامل ہیں ، اس سے تین گنا پیچھے ہے۔ پاکستان کی 43فیصد افرادی قوت زراعت کے شعبے سے منسلک ہے، تاہم کم پیداوارسے دیہاتی علاقوں میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے ، ساتھ ہی ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زرعی درآمدات بھی بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں چائنہ کی کپاس اور گندم کی فی ہیکٹر پیداوار دوگنا جبکہ مصر کی چاول اور گنے کی فی ہیکٹر پیداوار تین گنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر امدادی اقدامات کرے۔ کسان فصل کی تیاری میں بیج ، پیسٹیسائیڈز(کیڑے مار ادویات) اور دیگر اخراجات کیلئے قرضے لیتے ہیں۔اگرحکومت کی جانب سے ان کی مدد نہ کی گئی تو کسان دیوالیہ ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…