جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس آمدن میں 10 بڑے شعبوں سے اربوں روپے کمی کا سامنا

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر)کو10بڑے شعبوں سے ٹیکس آمدن میں اربوں روپے کمی کا سامنا ہے، موبائل فون، گاڑیاں، پیٹرولیم مصنوعات، اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس چھوٹ قومی خزانے پر بھاری پڑی۔تفصیلات کے مطابق ملکی معیشت کا بڑا سہارا ٹیکس ریونیو ہے۔

تاہم نئے پاکستان میں بھی ٹیکس اہداف پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق موجودہ حکومت کو ابتدا میں ہی191 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔موجودہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ٹیکس ریونیو میں 43 ارب 88 کروڑ کا نقصان ہوا، موجودہ حکومت کوسابق دور میں تنخواہ دار طبقے کو 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس چھوٹ کا بوجھ بھی سہنا پڑا، پہلی ششماہی میں 25 ارب کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق فون کارڈز پر ٹیکس وصولی پر عدالتی استثنیٰ نے بھی حکومت کو 21ارب کی ٹھیس پہنچائی، ٹیلی کام سیکٹر سے بھی 25 ارب کے بجائے صرف 3 ارب 67 کروڑ ٹیکس ملا۔وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کمی سے اقتصادی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوگئیں، گڈز اینڈ سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 20 ارب سے زیادہ کی کمی آئی، اسٹاک مارکیٹ میں مندی سے ریونیو میں 4 ارب 64 کروڑ کا نقصان ہوا۔ایف بی آر کے مطابق گیس کی فروخت پر سیلز ٹیکس ریونیو بھی تقریبا 4 ارب جبکہ بینکنگ سیکٹر سے 1.6 ارب روپے کم وصول ہوئے، سیمنٹ سیکٹرمیں 2 ارب 81 کروڑ، گاڑیوں کی فروخت میں کمی سے 2 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ایف بی آر کے مطابق حکومت نے ایل این جی، ایل پی جی، کوئلے، تمباکو سمیت بعض شعبوں سے 26 ارب روپے اضافی کمائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…