جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین کو برآمد کئے جانے والے بالوں کی مالیت 1 لاکھ 32 ہزار ڈالر ہے : وزارت تجارت

datetime 18  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ چین کو برآمد کئے جانے والے بالوں کی مالیت 1 لاکھ 32 ہزار ڈالر ہے۔ جمعہ کو وقفہ سوالات کے دور ان وزارت تجارت نے بتایا کہ پاکستان نے پانچ سال میں 16 لاکھ ڈالر کے انسانی بال برآمد کئے۔ وزارت تجارت نے کہاکہ چین کو

پانچ سال میں ایک لاکھ 5 ہزار 461 کلوگرام انسانی بال برآمد کئے گئے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ چین کو برآمد کئے جانے والے بالوں کی مالیت 1 لاکھ 32 ہزار ڈالر ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ انسانی بالوں کا استعمال وگز بنانے میں ہوتا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ 2016-17 میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں کمی سے وگز کی مانگ بھی کم ہوئی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ پاکستان چین، امریکہ، عرب امارات سمیت کئی ممالک کو بال برآمد کرتا ہے۔2013-14سے 2017-18 تک برآمدات میں ایک ارب 88کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے ،وزارت تجارت نے تحریری بیان میں کہاکہ 2013-14 کے دوران برآمدات 25ارب 11کروڑ تھیں ۔وزارت تجارت کے مطابق-18 2017میں برآمدات 23 ارب 22 کروڑ ڈالر رہیں 2014-15 میں ملکی برآمدات 23 ارب 66کروڑ ڈالر تھیں ۔ وزارت تجارت کے مطابق ں-162015 میں برآمدات 20ارب 78 کروڑ اور 2016-17میں برآمدات 20ارب 42 کروڑ ڈالر رہیں ۔وزارت تجارت کے مطابق 2017-18کے دوران برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 13.71 فیصد اضافہ ہواہے ۔وزارت تجارت نے تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ پانچ سال سے عالمی برآمدات میں پاکستان کا حصہ 0.15فیصد تک محدود ہے وزارت نے اعتراف کیا کہ 2014 سے 2018 تک عالمی برآمدات میں پاکستان کا حصہ 0.15 فیصد پر رکا ہوا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…