جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سال 2018 میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سال دوہزار اٹھارہ میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آج آخری تاریخ ہے۔ تفصیلات کے مطابق گیارہ سال میں ایف بی آرکی ریونیو وصولی میں ساڑھے4گنااضافہ ہوا اور مالی سال 18-2017 تک ریونیو وصولی 3842 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ایف بی آر زرائع کا کہنا ہے کہ پندرہ دسمبر تک

ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد چودہ لاکھ تھی جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصےمیں یہ تعداد گیارہ لاکھ تھی، ٹیکس جمع کروانے کی آخری تاریخ پندرہ دسمبر تھی جس میں آج تک کی توسیع کی گئی ہے۔ ترجمان ایف بی آر کا کہناہےیہ حتمی تاریخ ہے اوراس میں مزید توسیع نہیں کی جائےگی۔تاہم انکم ٹیکس کمشنر کو کیس کی صورت حال دیکھتے ہوئے پندرہ دن کی توسیعی دینے کا اختیار حاصل ہے۔ 11ایف بی آر کے مطابق 11 سال قبل ریونیووصولی847.2 ارب تھی، 11 سال میں مجموعی ٹیکس وصولیوں میں 2995 ارب ، انکم ٹیکس وصولی میں 360 فیصد اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیوں کی وصولی میں 187 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سیلز ٹیکس وصولیاں 382 فیصد بڑھ گئیں۔ مالی سال 12-2011 ٹیکس وصولیوں کی بلند شرح کا سال رہا اور ٹیکس وصولیوں میں 20.84 فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا جبکہ کسٹم ڈیوٹی وصولی 360 فیصد بڑھ گئیں۔ یاد رہے گذشتہ روز وزیرِ مملکت ریونیو محمد حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ٹیکس معاملات میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو آسان بنایا جائے گا۔ واضح رہے دو ہفتے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے آخری تاریخ 15 دسمبر کر دی تھی۔ اس سے قبل 27 نومبر 2018 کو وزیرِ مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے دیر سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں پر عائد جرمانہ ختم کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…