جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 6 روپے تک اضافہ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارش پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 6 روپے تک اضافے کا اعلان کردیا۔ اوگرا نے گزشتہ روز وزارت پیٹرولیم کو سمری ارسال کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13روپے تک اضافے کی سفارش کی تھی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے یکم نومبر سے پیٹرول کی قیمت میں

9 روپے 10 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 13 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 2 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل پر 6 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی تھی۔ پیٹرولیم مصنوعات میں 13 روپے تک اضافے کی تجویز کی سفارش پر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 6 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول 5 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 6 روپے 48 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور مٹی کا تیل 3 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا جس کے بعد پیٹرول 97 روپے 83 پیسے فی لیٹر کی نئی قیمت پر فروخت ہو گا۔ پہلی مرتبہ سی این جی کی قیمت 100 روپے فی کلو سے تجاوز کرگئی ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 112 روپے 94 پیسے فی لیٹر، مٹی کا تیل 86 روپے 50 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 82 روپے 44 پیسے فی لیٹر پر دستیاب ہو گا۔ یاد رہے کہ موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ اضافہ کیا گیا تھا اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ملکی تاریخ میں پہلی بار سی این جی کی قیمت 100روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی۔ حکومت نے بجلی کے نرخوں میں بھی 14فیصد اضافہ کیا تھا اور 25 اکتوبر کو حکومت نے واپڈا کی سابق تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 1.6 فی یونٹ اضافہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…