جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بلوکی : حویلی بہادر پاور پلانٹ کی نجکاری کا فیصلہ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے آر ایل این جی سے چلنے والے بلوکی پاور پلانٹ اور حویلی بہادر پاور پلانٹ کی نجکاری کی منظوری دے دی۔ رپورٹ کے مطابق بلوکی پاور پلانٹ کی صلاحیت ایک ہزار 2 سو 33 میگاواٹ ہے جبکہ حویلی بہادر پاور پلانٹ کی صلاحیت ایک ہزار 2 سو 30 میگا واٹ ہے۔ وزیرِ خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا۔

جس میں 5 پبلک سیکٹر کمپنیوں سے علیحدہ ہونے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کمیٹی نے جن اداروں کی نجکاری کی منظوری دی ہے ان میں ایس ایم ای بینک لمیٹڈ، فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ، جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد، لکھڑا کول مائنز (لکھڑا کول ڈیولپمنٹ کمپنی) اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور شامل ہیں۔ طویل مشاورت کے بعد پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم)، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، پاکستان ریلوے، یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور سول ایویشن اتھارٹی (ای اے اے) کو نجکاری کی فہرست سے نکال دیا۔ اجلاس کے دوران پاکستان اسٹیل ملز کو 45 روز کے اندر فعال بنانے کے لیے وزارت صنعت کو ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر متعلقہ وزاتوں کو اپنے ماتحت قومی اداروں میں بہتری اور انہیں مزید فعال کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ تاہم سول ایویش کے معاملے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ادارہ اپنے احسن انداز میں اپنے فرائض انجام کرتا ہے لہٰذا اس کی نجکاری نہیں کی جاسکتی۔ کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نجکاری کی فہرست میں موجود سرکاری ادارے نقصان کے دہانے پر ہیں جبکہ گزشتہ ایک دہائی سے ان کی نہ ہی نجکاری کی گئی اور نہ ہی ان کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے۔ سرمایہ کاری اداروں میں نیشنل بینک آف پاکستان اور صنعتی ترقیاتی بینک کو نجکاری فہرست سے نکال دیا جبکہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ سے متعلق وزیرِ خزانہ نے تجاویز طلب کرلیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی نے پرنٹنگ کارپوریشن پاکستان اور ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان کی بھی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان اداروں کی بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…