جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بری خبر معروف کمپنی نے گاڑیوں کی قیمت میں کتنااضافہ کر دیا؟

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ(پی ایس ایم سی ایل) نے ایک سال میں پانچویں مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتیں 40 ہزار روپے تک بڑھا دیں جن کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے اضافے کے بعد ویگن آر۔وی ایکس آر اور وی ایکس ایل کی قیمتیں بالترتیب 11 لاکھ 84 ہزار روپے اور 12 لاکھ 74 ہزار روپے ہوگئیں۔

اس کے ساتھ سوزوکی سوئفٹ ۔ڈی ایل ایکس اور اے ٹی کی قیمتیں 15 لاکھ 15 ہزار روپے اور 16 لاکھ 51 ہزار روپے ہوگئیں جبکہ سوزوکی کلٹس 150وی ایکس آر، وی ایکس ایل اور اے جی ایس کی قیمت 13 لاکھ 80 ہزار، 15 لاکھ ایک ہزار اور 16 لاکھ 8 ہزار تک پہنچ گئی۔اس حوالے سے اپنے اتھاریٹائزڈ ڈیلرزکو فراہم کیے گئے سرکلر میں قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا ذکر کیے بغیر بتایا گیا کہ ان کا اطلاق پہلے سے کیے گئے ان آرڈرز پر نہیں ہوگا جو گاڑیوں کی ترسیل کے مقررہ وقت کے اندر بقایا جات کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہے۔دوسری جانب این جے آٹو انڈسٹریز نے بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے کے باعث برآمدی اشیا کی لاگت میں اضافے کے بعد اپنی تیار کردہ70 سے 250 سی سی کی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں 2 سے 5 ہزار روپے تک کا اضافہ کردیا۔اس ضمن میں موٹر سائیکلوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 5 نومبر سے ہوگا۔گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے مقامی سطح پر لاگت میں اضافے کے دعوے کے بعد صارفین کیلئے محض رواں سال میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں 4 سے 5 مرتبہ اضافہ کیا جاچکا ہے۔واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ساڑے 7 فیصد تک گر گئی تھی تاہم 24ط اکتوبر کو اس میں ڈیڑھ فیصد جا معمولی اضافہ ہوا تھا۔خیال رہے کہ مجموعی طور پر دسمبر 2017 سے

اب تک روپے کی قدر میں تقریباً 18 فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔یاد رہے کہ کہ سوزوکی کمپنی کی جانب سے رواں برس جنوری میں گاڑیوں کی قیمت میں 10 ہزار سے 20 ہزار روپے تک اضافہ کیا تھا جبکہ رواں برس مارچ میں 20 سے 50 ہزار اور جون میں 20 سے 30 ہزار روپے اضافہ کیا گیا تھا۔اس بارے میں کمپنی کا موقف ہے کہ پاکستان میں اسمبل کی جانے والی گاڑیوں کے بیشتر پرزے بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں اور جب بھی پاکستانی روپے کی قدر گرتی ہے تو ان پرزوں کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…