ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ کا بڑی آن لائن کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگانے کا اعلان

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن(این این آئی)برطانوی حکومت مستقبل قریب میں گوگل، فیس بک اور ایمیزون جیسی بڑی بڑی بین الاقوامی آن لائن کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق یہ بات برطانوی وزیر خزانہ ہیمنڈ نے سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خزانہ فیلپ ہیمنڈ نے اپنے بجٹ خطاب میں کہا کہ ملکی ٹیکس ماڈل جدید کاروبار کے ان حالات کار سے بہت مطابقت نہیں رکھتے، جن میں آن لائن بزنس بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل بزنس ماڈل تبدیل ہو رہے ہیں اور اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک ایسا زیادہ منصفانہ ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے، جس میں گوگل، فیس بک اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کو بھی اپنی آمدنی پر ادائیگیاں کرنا پڑیں۔فیلپ ہیمنڈ نے کہا کہ بڑے بڑے آن لائن پلیٹ فارم برطانیہ میں کاروباری اور مالیاتی حوالے سے تو بہت کامیاب ہیں، لیکن ان کی طرف سے اپنی مقامی آمدنی پر کوئی ٹیکس ادا نہ کیا جانا غیر منصفانہ بھی ہے اور ایسا بہت دیر تک ہو بھی نہیں سکتا۔فیلپ ہیمنڈ کے بقول اس نئے ٹیکس کو ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کا نام دیا جائے گا اور اس کے ذریعے چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بجائے بڑے بڑے اداروں کو قومی ٹیکس نیٹ ورک میں لایا جائے گا۔برطانوی وزیر خزانہ کے مطابق اگلے برس مارچ کے آخر تک برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد ملک میں جو قانونی اور مالیاتی اصلاحات ضروری ہو جائیں گی، ان کا ایک حصہ یہ بھی ہو گا کہ اپریل 2020ء سے مقامی طور پر بڑے بین الاقومی آن لائن ادارے بھی ٹیکس ادا کیا کریں گے۔فیلپ ہیمنڈ کے بقول ایسے اداروں کو برطانیہ میں جتنا بھی کاروباری منافع ہو گا، انہیں اس کا دو فیصد تک ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کے طور پر حکومت کو ادا کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…