جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

امید کے برعکس دواسازی سیکٹر میں صرف 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری

datetime 28  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ  ڈیسک) پاکستان کے ادویات ساز سیکٹر میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حکومتی ضوابط کی وجہ سے کمی کا شکار رہی ہے جس کے اخراجات کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ آئندہ 10 سال میں دگنے ہوجائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس سیکٹر میں رواں برس امیدوں کے برعکس 2 کروڑ 64 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

جبکہ اس سیکٹر کی سیلز مسلسل ملکی مجموعی پیداوار کا ایک سے 2 فیصد تک رہی ہے۔ بین الاقوامی نگراں ادارے فچ سلوشنز کے مطابق اگر ادویات سازی کے سیکٹر کا جی ڈی پی میں حصہ اسی رفتار کے ساتھ چلتا رہا تو یہ 2027 تک بھی ایک فیصد تک ہی اپنا حصہ دے سکے گا۔ دوسری جانب پاکستان کی ادویات کی برآمدات میں گزشتہ 3 سال کے دوران اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی سست روی کا شکار ہے اور مالی سال 18-2017 کے دوران 29 کروڑ 30 ڈالر کی برآمدات دیکھنے میں آئی۔ ادویات سے متعلق کیس: ’سندھ ہائی کورٹ حکم امتناعی کی درخواستوں پر 15 روز میں فیصلہ کرے‘ پڑوسی ملک بھارت کی برآمدات کی قدر 33 ارب ڈالر ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ 17 ارب 27 کروڑ ڈالر پر رہی۔ فچ سلوشنز کے مطابق پاکستان کا ادویات سازی کا سیکٹر ملک میں خراب حکمرانی، وسائل تک عدم رسائی، محکمہ صحت میں کرپشن، نگرانی اور منصوبہ بندی کا فقدان ماہر اسٹاف کی کمی کی وجہ سے متاثر ہورہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی عزم کے باوجود امکان ہے کہ حکومتی اقدامات تاخیر کا شکار ہوجائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق 2027 تک اس سیکٹر میں اخراجات 9 سو 73 ارب روپے تک ہوجائیں گے۔ گزشتہ برس پاکستان کی ادویات سازی کی مارکیٹ کی قدر 3 سو ارب روپے سے زائد تھی۔ ادھر فرما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ حق کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی جعلی دواؤں کے معاملے میں حکومت کو دخل اندازی کرنی ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمگل شدہ جعلی ادویات نہ صرف لوگوں کی جان کے لیے ایک خطرہ ہیں بلکہ ان کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان بھی ہورہا ہے۔ عائشہ حق نے کہا کہ درآمد ہونے والی ادویات اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی ادویات کے معیار کی جانچ کرنے کے لیے حکومت کے پاس فریم ورک موجود نہیں ہے، تاہم اس معاملے کو حکومتی مداخلت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔



کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…