جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ایل این جی آپریٹرز پر حکومت کا وار : کمپنیاں دفاع کے لیے تیار

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قدرتی مائع گیس ( ایل این جی) کے ٹرمینل کے آپریٹرز اینگرو ایلنجی اور پاکستان گیس پورٹ نے 2 وفاقی وزرا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔  رپورٹ کے مطابق وفاقی وزرا کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کمپنیوں کو زیادہ قیمت اور غیر قانونی طریقے سے یہ ٹھیکے ملے ہیں۔ اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ

(ای ای ٹی پی ایل) کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی اس کانٹریکٹ کو دوبارہ کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ایل این جی کی مدد سے بجلی کی فی یونٹ قیمت 9.9 روپے آرہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں فرنس آئل سے بجلی کی فی یونٹ قیمت 15.5 روپے ہے۔ اپنے بیان میں اینگرو کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے ایک شفاف عمل کے تحت حکومت کے ساتھ 15 سال کا معاہدہ کیا ہوا ہے، اور اس کے بعد ہی کمپنی نے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اینگرو کے مطابق ’حکومت کے پاس اس معاہدے کو دوبارہ کھولنے یا اس کی شرائط و ضوابط کو ازسرِنو تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور نہ ہی یہ اختیار کمپنی کے پاس ہے‘۔ دوسری جانب پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایل این جی ٹرمینل کو چلانے کا معاہدہ شفاف طریقے سے حاصل کیا ہے اور وہ اس کی وضاحت نئی حکومت کو دینے کو تیار ہیں واضح رہے کہ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری اور وزیرِ پیٹرولیم غلام سرور خان نے اعلان کیا تھا کہ حکومت ایل این جی منصوبوں سے متعلق کیے گئے ٹھیکوں پر نظرثانی کرکے گی اور الزام عائد کیا تھا کہ یہ ٹھیکے شفاف طریقے سے کمپنیوں کو نہیں دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی 9 ماہ کے دوران اینگرو نے 44 فیصد جبکہ پاکستان گیس پورٹ نے 22.74 فیصد ریٹرن اون ایکوٹی (آر او ای) حاصل کیا تھا جو آئل اور گیس سیکٹر میں 15 سے 17 فیصد معمول کے مطابق منافع سے کئی زیادہ ہے۔ تاہم اس حوالے سے اینگرو کا کہنا ہے حصص کنندہ گان کو نرخ کی بنیاد پر ایسے منصوبوں کے منافع کا جائزہ لینے کے لیے آر او ای درست بینچ مارک نہیں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…