منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

حکومت ‘آئی ایم ایف’ کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ معاشی استحکام اور شرح نمو کو بہتر بنانے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کا سبب ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ‘آئی ایم ایف’ کے وفد اور پاکستانی حکام

کے مابین ایک ہفتے پر محیط حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات مثلاً روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا اور مالیاتی سختی کا خیر مقدم کیا۔ تاہم آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستانی حکومت کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملک کو درپیش شدید مالی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایکسچینج فلیکسبلیٹی میں اصلاحات کے ساتھ مالی اور مانیٹری پالیسیوں میں سختی، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ ہونے والی اختتامی ملاقات میں آئی ایم ایف وفد نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر پیداواری لاگت سے ہمکنار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ کمپنیاں اضافی آمدنی کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے حکومت کے سامنے ایکسچینج ریٹ کے مکمل طور پر آزادانہ بہاؤ اور پالیسی ریٹ کو دگنا کرنے کے لیے اقتصادی بنیادوں پر مشتمل ایک نیا فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں پیش کردہ مالیاتی اقدامات کو بھی ناکافی قرار دیا اور مالی خسارہ 5.1 فیصد تک محدود کرنے کے لیے صوبائی آمدنیوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ وفد نے حکومت سے مزید سخت

اقتصادی اقدامات مثلاً آمدنی میں اضافہ اور یوٹیلیٹیز کی قیمتیں بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک آئی ایم ایف سے مالی مدد کے لیے باضابطہ درخواست کا فیصلہ نہیں کر سکی اور بظاہر اس فیصلے کو رواں ماہ کے اختتام تک موخر کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں خاص کر 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی مہم

کے نعروں میں کشکول توڑنا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کے مشیران اپنی اقتصادی سمجھ بوجھ کے بل بوتے پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فنڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کے قریبی افراد کا موقف یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پی ٹی آئی کے منشور میں پیش کردہ حکومتی حکمتِ عملی کی نفی ہوگا، چنانچہ بہتر ہے کہ اس سلسلے میں دوست ممالک سے مدد حاصل کی جائے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…