ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

قرضوں کے جال میں پھنسنے کا خدشہ، پاکستان کا سلک روڈ منصوبے پر غور

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کے تحت نئے منصوبوں پر خدشات ہیں، تاہم چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو چین کے بی آر آئی کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن بچھانے کے

منصوبے میں اس کی قیمت اور سرمایہ کاری کی شرائط پر خدشات ہیں۔ پاکستان کی جانب سے وزیرِاعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان منصوبوں میں مزاحمت دکھائی جارہی ہے، جبکہ عمران خان پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ بیرونی قرضے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، تاہم ملک کو غیر ملکی قرضوں کی عادت سے الگ کرنا ہے۔ ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی، ترقیاتی و اصلاحاتی امور خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک ماڈل کس طرح تیار کرنا ہے تاکہ تمام خطرے کا سامنا حکومتِ پاکستان کو نہ کرنا پڑے۔ حکومتِ پاکستان چاہتی تھی کہ بی آر آئی منصوبے میں تمام معاہدوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، تاہم اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران چین کے ساتھ معاہدے احسن طریقے سے انجام نہیں پائے؛ یہ بہت مہنگے ہیں یا پھر اس میں زیادہ فائدہ چین کو دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کی بے چینی دیکھتے ہوئے بیجنگ نے صرف ان منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جو اب تک شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک بی آر آئی منصوبے میں کام جاری رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں، تاکہ جو منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ گئے ہیں وہ معمول کے مطابق جاری رہیں اور جو ابھی جاری ہیں وہ آسانی کے ساتھ مکمل ہوسکیں۔ ادھر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان چین کی سرمایہ کاری کے حوالے سے پُر عزم ہیں۔ تاہم اس میں قیمت اور گنجائش پر زور دیا جارہا ہے۔ پاکستان میں چین کے سفیر یو جنگ نے بتایا کہ بیجنگ اسلام آباد کی تجاویز پر معاہدے کی شقیں تبدیل کرنے کے لیے رضا مند ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ باہمی مشاورت کی بنیاد پر بی آر آئی منصوبے کے لیے چین نئی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی کرے گا‘۔ چینی سفیر نے واضح کیا کہ ’بیجنگ، اسلام آباد کے ساتھ ان ہی منصوبوں پر کام کرے گا جو وہ چاہتا ہے، کیونکہ یہ اس کی معیشت اور اس کا معاشرہ ہے‘۔ پاکستان کی کمزور معیشت کو چینی قرضوں سے سہارا دینے کے انحصار کی وجہ سے اسلام آباد کی بیجنگ کے منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی کوشش میں مشکلات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…