منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

روپے کی بے قدری جاری، ڈالر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا،ماہرین کی انتہائی خطرناک پیش گوئی ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 23  جولائی  2018 |

کراچی (این این آئی) ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو ہفتے کے پہلے کاروباری روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپے اضافے کیساتھ 131روپے ہو گئی جسے معاشی ماہرین پاکستانی معیشت کے لیے بڑا جھٹکا قرار دے رہے ہیں۔پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں پچاس پیسے کا اضافہ ہوا جو ایک روپے تک جا پہنچا اور یوں ڈالر کی قیمت نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور ڈالر کی ٹریڈنگ 128 روپے 50 پیسے پر ہوتی رہی۔اس سے پہلے جمعہ کے روز امریکی ڈالر کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 130 روپے کا ہو گیا تھا۔گزشتہ کئی روز سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے، کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قدر میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور ڈالر 130 روپے تک پہنچ گیا تھا۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق ڈالر کی قیمت میں 30 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 129.70 سے بڑھ کر 130 روپے تک پہنچ گئی تھی۔کرنسی ڈیلرزکا کہنا ہے کہ ڈالر کی طلب میں اچانک اضافہ ہونے سے اس کی قدر بھی بڑھ گئی ہے، آثار ایسے نظر آ رہے ہیں کہ اس کی قدر میں اضافہ نہ صرف بر قرار رہے گا بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں حیران کن اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جب کہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تیل، ایل این جی، کھانے کی اشیا، زرعی اشیا، کوکنگ آئل سمیت کئی چیزیں درآمد کر رہا ہے، اس کے علاوہ سی پیک کے پروجیکٹس کے حوالے سے مشینری بھی درآمد کی جا رہی ہے

جس کے باعث ڈالر کی قدر میں اضافہ قدرتی ہے لیکن اگر پاکستان نے اپنا امپورٹ بل کم کرنے کی کوشش نہ کی اور برآمدات میں اضافہ نہ کیا، پیداواری لاگت کو کم کر کے برآمدات کے لیے اپنی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مزید مسابقانہ نہ بنایا اور بنیادی معاشی اصلاحات نہ کیں تو صورت حال ایسی ہی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…