منگل‬‮ ، 27 جنوری‬‮ 2026 

حکومت سندھ نے کراچی ریپڈ ٹرانزٹ میں بحالی منصوبے کی منظوری دے دی

datetime 2  جولائی  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے کراچی میں جاری بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے (کے بی آر ٹی) کے لیے بحالی منصوبے کی منظوری دے دی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک خط کے ذریعے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کو بتایا کہ سندھ حکومت کے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی جانب سے مسودے پر منظوری دے دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کے بی آر ٹی ایک گزرگاہ ہے۔

جسے کراچی شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور یہاں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی ابتر صورتحال کے پیشِ نظر تعمیر کیا جارہا ہے۔ مذکورہ منصوبے کو ایس ایم ٹی اے کی جانب سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تیار کیا جارہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ شہر میں کے بی آر ٹی منصوبے کے تحت ’ریڈ لائن‘ منصوبہ 2019 کے پہلے سہ ماہی میں شروع کردیا جائے گا، جس میں کراچی کے شہریوں کو سفری اعتبار سے پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اہداف اور بحالی منصوبے کو خاطر میں لاتے ہوئے کے بی آر ٹی کا ریڈ لائن منصوبہ شہر کے لیے ایک بہترین آپشن تصور کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ اس منصوبے کی تعمیرات کراچی شہر کے باسیوں کی گزرگاہوں پر ہی ہوگی بالخصوص گنجان آباد رہائشی اور تجارتی علاقوں میں۔ کے بی آر ٹی کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے سے ہونے والے متاثرہ دکان داروں کا تخمینہ لگا لیا گیا ہے اور بحالی منصوبے کے تحت ان کی تخفیف کی جائے گی اس حوالے سروے بھی کرلیا گیا ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کے ساتھ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تقریباً 925 ہے جن میں سے 293 افراد قانونی دکانوں کے مالک ہیں اور تعمیری کام کے سلسلے میں انہیں اپنی جائیداد سے محروم ہونا پڑے گا۔اس کے علاوہ اس منصوبے کے راستے میں 80 سرکاری اور نیم سرکاری ادارے موجود ہیں جنہیں اپنی منقولہ املاک کو منتقل کرنا پڑے گا، جبکہ اس راستے میں 493 پتھارے بھی موجود ہیں جو منصوبے سے متاثر ہوں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…