منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر ملکی معیشت کیلئے بڑا خطرہ بن گئی،ایف پی سی سی آئی

datetime 20  جون‬‮  2018 |

کراچی (( مانیٹرنگ ڈیسک))ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین کوآرڈی نیشن ملک سہیل نے کہا ہے کہ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر ملکی معیشت کیلئے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔عوام مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب رہے ہیں مگر ارباب اختیار چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ کھلی منڈی میں ڈالر ایک سو پچیس روپے کا ہو گیا ہے ۔ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ کے سبب اسکے بیچنے والے کم اور خریدار بڑھ گئے ہیں۔

جس کی وجہ سے اسکی طلب بڑھ رہی ہے جبکہ مرکزی بینک خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جو بے رحمی ہے۔ ملک سہیل حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کھلی منڈی سے ڈالر کے غائب ہونے سے بیرون ملک جانے والے پریشانی میں مبتلاء ہو گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دسمبر2017 سے اب تک ڈالر کی قدر میں سترہ روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے جو پالیسی سازوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈالر کی اڑان نے سی پیک سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں اور پیداواری لاگت بڑھا دی ہے، عوام کی کم توڑ دی ہے جبکہ غیر ملکی قرضوں میں چھ سو ارب سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو غیر ملکی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے ایک کھرب سے زیادہ کا اضافہ ہو جائے گا۔جب تک مرکزی بینک منڈی میں معنیٰ خیز مداخلت نہیں کرتا ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ڈالر کے کھلی منڈی کے ریٹ اور انٹر بینک ریٹ میں بڑھتا ہوا فرق ہنڈی اور حوالے کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جس کا حل اس فرق کو کم کرنے بینکنگ کے شعبہ میں اصلاحات ہے ورنہ ترسیلات کا حجم کم ہو جائے گا جس سے ملک کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ملک سہیل نے کہا کہ ہنڈی کے زریعے رقوم کی ترسیل بینکنگ کے زریعے رقوم کی ترسیل سے زیادہ پر کشش ہوتی جا رہی ہے ہے جو ملکی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے ۔برامدات اور سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ترسیلات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے جسکے لئے مین پاور ایکسپورٹ کو بڑھانا ہو گا جسے مسلسل نطر انداز کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…