منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی بینک پانی وبجلی کے جدید منصوبوں کیلئے 56 کروڑ ڈالر دینے پر راضی

datetime 19  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو پانی اور بجلی کے جدید انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں مدد کرنے اور فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عالمی بینک 68 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے منصوبوں میں سے 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے پر راضی ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق اس قرضے کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں میں پاکستانی حکومت کی طرف سے سیکریٹری محکمہ اقتصادی امور سید غضنفر عباس جیلانی جبکہ

( این ٹی ڈی سی ) اور حکومت سندھ کے نمائندوں نے بھی دستخط کیے جبکہ اس موقع پر عالمی بینک کی طرف سے کنٹری ڈائریکٹر پاچھاموتھو الانگوون بھی موجود تھے۔ پاکستان کا ورلڈ بینک سے پاک، بھارت آبی تنازع حل کرنے کا مطالبہان معاہدوں کے مطابق عالمی بینک این ٹی ڈی سی کے لیے 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور سندھ حکومت کے لیے14 کروڑ ڈالر سمیت کل 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔عالمی بینک کی جانب سے جدید قومی ٹرانسمیشن ( فیز 1) منصوبے کے لیے فراہم کردہ 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کو قومی ٹرانسمیشن نظام کے مختلف حصوں کی صلاحیت کو بڑھانے اور این ٹی ڈی سی کے کاروباری عمل کو جدید بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ بہتر انتظام اور آپریشن کے لیے اعلیٰ سطح کا ٹرانسمیشن نظام، معلومات اینڈ مواصلاتی ٹیکنالوجی ( آئی سی ٹی )، تکنیکی مدد ( ٹی اے ) میں سرمایہ کاری میں مدد دے گا۔اس منصوبے پر کل لاگت 53 کروڑ63 لاکھ ڈالر سے زائد آئے گی، جس میں عالمی بینک 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کرے گا جبکہ 11 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ڈالر این ٹی ڈی سی کو ادا کرنے ہوں گے۔اس کے علاوہ سندھ بیراجز امپروومنٹ پروجیکٹ کا مقصد گدو بیراج کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھانا اور بیراج کا نظام چلانے والے محکمہ آبپاشی سندھ کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔عالمی بینک کی فنڈنگ سے اس منصوبے سے سکھر بیراج کی بحالی اور جدت میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ یہ دریائے سندھ پر بنے گدو، سکھر اور کوٹری بیراج کے آپریشن اور دیکھ بھال میں بہتری کے لیے مدد فراہم کرے گا۔ اس منصوبے پر کل لاگت 15 کروڑ 22 لاکھ ڈالر آئے گی، جس میں 14 کروڑ عالمی بینک فراہم کرے گا جبکہ اضافی 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا فنڈ سندھ حکومت ادا کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…