جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

سی ڈی اے نے سینکڑوں تاجروں کو غیر قانونی نوٹس بھجوا دئیے، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

datetime 4  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے سی ڈی اے نے موجودہ سیاسی بے یقینی کی کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آبا دکی تاجر برادری کو لوٹنے کا منصوبہ بنا کر سینکڑوں تاجروں کو غیر قانونی نوٹس جاری کر دئیے ہیں جس سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کمرشل بلڈنگوں کے سینکڑوں مالکان کونوٹس بھیجے گئے ہیں کہ وہ اپنے پلازوں اور شاپنگ سینٹروں میں برامدہ بنوائیں ورنہ سی ڈی اے کا عملہ ان عمارتوں کو مسمار کر دے گا

اور اس کے اخراجات بھی جائیداد کے مالک سے وصول کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سی ڈی اے کے فیصلے کی زد میں سینکڑوں عمارتیں آ رہی ہیں جبکہ اس سے شہر میں کارپوریٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تمام دفاتر متاثر ہونگے جس سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار ہراساں ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے قوانین میں کمرشل عمارتوں میں برامدہ بنانے یا نہ بنانے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اسلام آبا دمیں کئی دہائیوں سے کمرشل عمارتیں بغیر برامدے بن رہی ہیں اور اگر یہ غیر قانونی ہیں تو انکی تعمیر کیوں ہونے دی گئی، نقشے کیوں منظور کئے گئے اور سی ڈی اے نے ہزاروں بلڈنگ مالکان کے منصوبے کی تکمیل کی سند( کمپلیشن سرٹیفیکیٹ) کیوں جاری کئے۔انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے ایک طرف تو غیر قانونی حربوں سے کاروباری برادری کو لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف شہر بھر میں تجاوزات کی بھرمار ہے جن سے بھتہ لیا جاتا ہے۔ کھوکا ہوٹلوں نے سینکڑوں فٹ زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے، مارکیٹوں میں بعض دکانداروں نے سی ڈی اے کی ملی بھگت سے گزر گاہیں بند کر کے دکانیں بنا ڈالی ہیں جن سے لاکھوں روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد چیمبر کے رہنماؤں نے بھی آبپارہ میں قبضے کئے ہوئے ہیں، مارکیٹوں میں سیڑھیوں کو بھی دکانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ کوئی ایسا سیکٹر نہیں جہاں سرکاری زمین پر قبضہ نہ ہوا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…