اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سی ڈی اے نے سینکڑوں تاجروں کو غیر قانونی نوٹس بھجوا دئیے، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

datetime 4  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے سی ڈی اے نے موجودہ سیاسی بے یقینی کی کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آبا دکی تاجر برادری کو لوٹنے کا منصوبہ بنا کر سینکڑوں تاجروں کو غیر قانونی نوٹس جاری کر دئیے ہیں جس سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کمرشل بلڈنگوں کے سینکڑوں مالکان کونوٹس بھیجے گئے ہیں کہ وہ اپنے پلازوں اور شاپنگ سینٹروں میں برامدہ بنوائیں ورنہ سی ڈی اے کا عملہ ان عمارتوں کو مسمار کر دے گا

اور اس کے اخراجات بھی جائیداد کے مالک سے وصول کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سی ڈی اے کے فیصلے کی زد میں سینکڑوں عمارتیں آ رہی ہیں جبکہ اس سے شہر میں کارپوریٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تمام دفاتر متاثر ہونگے جس سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار ہراساں ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے قوانین میں کمرشل عمارتوں میں برامدہ بنانے یا نہ بنانے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اسلام آبا دمیں کئی دہائیوں سے کمرشل عمارتیں بغیر برامدے بن رہی ہیں اور اگر یہ غیر قانونی ہیں تو انکی تعمیر کیوں ہونے دی گئی، نقشے کیوں منظور کئے گئے اور سی ڈی اے نے ہزاروں بلڈنگ مالکان کے منصوبے کی تکمیل کی سند( کمپلیشن سرٹیفیکیٹ) کیوں جاری کئے۔انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے ایک طرف تو غیر قانونی حربوں سے کاروباری برادری کو لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف شہر بھر میں تجاوزات کی بھرمار ہے جن سے بھتہ لیا جاتا ہے۔ کھوکا ہوٹلوں نے سینکڑوں فٹ زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے، مارکیٹوں میں بعض دکانداروں نے سی ڈی اے کی ملی بھگت سے گزر گاہیں بند کر کے دکانیں بنا ڈالی ہیں جن سے لاکھوں روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد چیمبر کے رہنماؤں نے بھی آبپارہ میں قبضے کئے ہوئے ہیں، مارکیٹوں میں سیڑھیوں کو بھی دکانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ کوئی ایسا سیکٹر نہیں جہاں سرکاری زمین پر قبضہ نہ ہوا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…