پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ساڑھے چار ارب ڈالر ز کا کیا ہوا؟پاکستانی حکمرانوں کے کام نرالے، عالمی ادارہ ایسے اقدام پر جرمانہ کریگا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے اے ڈی بی سے مختلف منصوبوں کےلئے 40.6ارب ڈالرزقرض لیاتھالیکن اس رقم کوبروقت استعمال نہ کرنے پر بینک نے تشویش کااظہارکیاہے اوراس تاخیرکی وجہ سے پاکستان کو ساڑھے 4ارب ڈالرز قرض استعمال نہ کرنے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو 70 لاکھ ڈالرزجرمانہ دینا پڑے گااوریہ جرمانہ غیر استعمال شدہ فنڈز پر پاکستان کی کمٹمنٹ فیس ہوگی۔حکومت نے یہ فنڈزتوانائی کے

شعبے کےلئے تھے لیکن ان فنڈزکونہایت سست روی سے استعمال کیاگیاہے ۔وفاقی حکومت نے2 ارب 90 کروڑ ڈالر زکے قرض میں سے صرف 44 کروڑ ڈالر خرچ  کئے ہیں لیکن وفاقی حکومت ہرسال اس قرض پر6ارب ڈالرزسالانہ سود کی مدمیں اداکرہی ہے۔ ایشین بینک کی طرف سے فراہم کئے گئے قرض سے پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر پن بجلی کے ایک ہزار چھوٹے پاور پلانٹس لگائے جائیں گے ، جن میں سے 7 فیصد مائیکرو ہائیڈرو پاور پلانٹس ان گھروں کو دیے جائیں گے جن کی سربراہ خاتون ہوں گی۔معاہدے کے تحت پنجاب کے 17ہزار 400 ، خیبر پختونخوا میں 8 ہزار 187 سکولوں اور بنیادی مراکز صحت میں شمسی توانائی کے آلات کی تنصیب شامل ہے ، جس میں 30 فیصد صرف لڑکیوں کے اسکول ہوں گے ، معاہدے میں دونوں صوبوں کی خواتین کو ان کی مہارت بڑھانے کیلئے ٹریننگ دینے کی شِق بھی شامل ہے۔وفاقی حکومت 40.6ارب ڈالرزکے قرض کوبروقت استعمال نہ کرسکی جس کی وجہ سے وفاقی حکومت اب اے ڈی بی کوجرمانے کی مدمیں سود کےعلاوہ 70ارب ڈالرزجرمانہ بھی اداکرے گی ورنہ عالمی  ادارہ پاکستان کومزید قرض جاری کرنے سے انکاربھی کرسکتاہے ،وفاقی حکومت کی طرف سے ان فنڈزکے استعمال پراے ڈی بی نے عالمی بینک اورآئی ایم ایف کوبھی آگاہ کردیاہے ۔  جرمانہ اداکرنے کے بعدہی نیاقرض مل سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…