بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’اب تک کی سب سے بڑی خبر‘‘ وہ فیصلہ ہو ہی گیا جس کا سب کو انتظار رتھا ۔۔۔۔! عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ملک ہے تاہم لوڈ شیڈنگ وطن عزیز کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا ۔ معاشی ماہرین کے مطابق کالا باغ ڈیم پاکستان کیلئے ایک سونے کی چڑیا کی مانند ہے ۔ یہ ایک منصوبہ ہے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہم اقوام عالم کے سامنے سر فخر سے اٹھا بھی سکیں اور اپنی باتیں منوا بھی سکیں گے ۔ اسی حوالے سے تازہ ترین میڈیا ذرائع کے مطابق کالا باغ ڈیم حکومت کے تعمیراتی منصوبوں کی فہرست میں شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے،یہ اہم ترین انکشاف حکومت کی جانب سے مجوزہ منصوبوں کی فہرست سینیٹ میں پیش کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔انگریزی جریدے ڈان کے مطابق جمعہ کو وزارت پانی و بجلی کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں تحریری طور پر ایوان بالا کو بتایا گیا کہ چھتیس سو میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل کالا باغ ڈیم کی کا نقشہ اور ٹینڈر دستاویزات انیس سو اٹھاسی سے ہی مکمل ہیں منصوبہ قومی اتفاق رائے سے ہی مکمل کیا جاسکتا ہے۔حکومت کی جانب سے فہرست کی سینیٹ میں فراہمی پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عثمان کا کڑنے شدید رد عمل کا اظہار کیاتاہم خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی ،اور سندھ سے پیپلز پارٹی کے سنیٹرز معاملے پر مکمل خاموش رہے۔سینیٹر عثمان کاکڑ کے رد عمل پر وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سے 3600 میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکتی ہے،کالاباغ ڈیم کو ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کے تعمیرات کیلئے تیارمنصوبوں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے، بے شک اس حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرالی جائے۔ تاہم یہ بات تو طے ہے کہ کالا باغ ڈیم ہی وہ منصوبہ ہے جس کو پایہ تکمیل پہنچانے کے بعد پاکستان ترقیوں کی منازل جلد سے جلد طے کرے گا اور دنیا میں اپنا نام بنائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…