ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم نہ بننے سے پاکستان کو کتنے ارب کا نقصان ہو رہا ہے؟ جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

datetime 19  جولائی  2016 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) صدر گرائنڈنگ ملز ایسوسی ایشن پاکستان چوہدری افتخار بشیر نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں چیئرمین واپڈا کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو کی تعمیر کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر اس کی تعمیر کاباقاعدہ آغاز کیا جائے،کالاباغ ڈیم نہ بننے سے سالانہ 5ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔حکومت آبی ذخیروں تعمیر میں غفلت کامظاہرہ کرتے ہوئے ہر سال 30ملین ایکٹر فٹ پانی سمندر کی نذز کرکے سالانہ 18 ارب ڈالر کا نقصان کر رہی ہے ،بڑے آبی ذخائر نہ بنانا ملک کی بدقسمتی ہے اربوں روپے کا پانی ضائع ہورہا ہے ، اگر حکومت 10 ارب ڈالر کی لاگت سے کالا باغ کی تعمیر کر لیے اس سے ملکی زراعت کو 3.4 ارب ڈالر جبکہ بجلی کی پیداوار سے1.4 ارب ڈالر سالانہ بچت ہو سکتی ہے اس کی تعمیر صرف دو سالوں میں مکمل ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گرائنڈنگ ملز ایسوسی ایشن کے تاجروں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔افتخار بشیر چوہدری نے کہاسمندر میں جانیوالے قیمتی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے کالاباغ ڈیم سمیت تمام بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنا ہونگے۔
عالمی برادری میں پاکستان واحد ملک ہے جوانتہائی سازگار اور مفید ڈیم کی تعمیر نہ کرتے ہوئے صرف بجلی کی مد میں سالانہ196 ارب کا نقصان برداشت کررہا ہے، کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے لئے ہماراازلی دشمن بھارت اپنا کردار کرتا رہا ہے۔بھارت کے علاوہ جو عالمی طاقتیں اور مالیاتی ادارے کالاباغ اور دیگر آبی ذخائر کی تعمیر کے حق میں نہیں ان سے بھی جان چھڑالینا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لئے باہمی اختلافات ختم کئے جائیں یہی وقت کی اہم ضرورت ہے تا کہ پاکستان تعمیروترقی راہوں میں گامزن ہو اور ملک اندھیروں سے نجات پا سکے۔انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے اوپر جو اعتراضات کئے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو بالاتر رکھتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سمیت دیگر آبی منصوبوں پر فی الفور کام شروع کیا جائے اس طرح لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…