بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم نہ بننے سے پاکستان کو کتنے ارب کا نقصان ہو رہا ہے؟ جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

datetime 19  جولائی  2016 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) صدر گرائنڈنگ ملز ایسوسی ایشن پاکستان چوہدری افتخار بشیر نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں چیئرمین واپڈا کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو کی تعمیر کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر اس کی تعمیر کاباقاعدہ آغاز کیا جائے،کالاباغ ڈیم نہ بننے سے سالانہ 5ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔حکومت آبی ذخیروں تعمیر میں غفلت کامظاہرہ کرتے ہوئے ہر سال 30ملین ایکٹر فٹ پانی سمندر کی نذز کرکے سالانہ 18 ارب ڈالر کا نقصان کر رہی ہے ،بڑے آبی ذخائر نہ بنانا ملک کی بدقسمتی ہے اربوں روپے کا پانی ضائع ہورہا ہے ، اگر حکومت 10 ارب ڈالر کی لاگت سے کالا باغ کی تعمیر کر لیے اس سے ملکی زراعت کو 3.4 ارب ڈالر جبکہ بجلی کی پیداوار سے1.4 ارب ڈالر سالانہ بچت ہو سکتی ہے اس کی تعمیر صرف دو سالوں میں مکمل ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گرائنڈنگ ملز ایسوسی ایشن کے تاجروں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔افتخار بشیر چوہدری نے کہاسمندر میں جانیوالے قیمتی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے کالاباغ ڈیم سمیت تمام بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنا ہونگے۔
عالمی برادری میں پاکستان واحد ملک ہے جوانتہائی سازگار اور مفید ڈیم کی تعمیر نہ کرتے ہوئے صرف بجلی کی مد میں سالانہ196 ارب کا نقصان برداشت کررہا ہے، کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے لئے ہماراازلی دشمن بھارت اپنا کردار کرتا رہا ہے۔بھارت کے علاوہ جو عالمی طاقتیں اور مالیاتی ادارے کالاباغ اور دیگر آبی ذخائر کی تعمیر کے حق میں نہیں ان سے بھی جان چھڑالینا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لئے باہمی اختلافات ختم کئے جائیں یہی وقت کی اہم ضرورت ہے تا کہ پاکستان تعمیروترقی راہوں میں گامزن ہو اور ملک اندھیروں سے نجات پا سکے۔انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے اوپر جو اعتراضات کئے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو بالاتر رکھتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سمیت دیگر آبی منصوبوں پر فی الفور کام شروع کیا جائے اس طرح لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…