اسلام آباد(نیو زڈیسک) سرمایہ کاری بورڈ کے چیئر مین اور وزیر مملکت ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی کئی کمپنیوں کے پاکستان میں کام اور سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی مقامی گاڑیاں ساز کمپنیوں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بناناچاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں گاڑیاں بنانے والی غیر ملکی کمپنیوں نسان،رینالٹ اور گندھارا نسان لمیٹڈ کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے وزیر مملکت سے ملا قات کی ۔اس موقع پر وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان متوسط طبقہ کی آبادی والا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے اور 2025ء تک پاکستان میں متوسط طبقہ کے افراد کی تعداد 100ملین ہو جائے گی اس طرح پاکستان میں اشیاء اور سروسز کے حوالے سے سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہوں گے۔ انہوں نے وفود کو ملک میں کی جانے والی نئی سرمایہ کاری کی پالیسی میں دی جانے والی مختلف مراعات بارے بتایا اور کہا کہ اس ضمن میں دو کیٹیگریز بنائی گئی ہیں ۔ جن کے تحت گاڑی سازکمپنیوں کو پلانٹ اور مشینری ڈیوٹی فری درآمد اورمقامی و غیر مقامی پرزہ جات کی درآمد میں رعایت شامل ہو گی ۔
پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی کئی کمپنیوں کے پاکستان میں کام ،سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں ، ڈاکٹر مفتاح اسماعیل
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مشہور بھارتی اداکارہ ٹریفک کے المناک حادثے میں چل بسیں
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
ایران نے اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یو پیپلز آف پاکستان لکھ دیا
-
عوام کو سستے پیٹرول کی فراہمی ! حکومت کا 24 ہزار فونز خریدنے کا اعلان
-
محلے دار نے بھتیجے کے گھر آئی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
-
حمزہ علی عباسی کی بہن نے لاکھوں ڈالرز اور درہم کیسے بیرون ملک منتقل کئے؟ الزامات کی تفصیلات
-
ریشم نے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ کی ہیں’ دیدار کا الزام
-
دوستی نہ کرنے پر فٹ بالر نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا
-
رجب بٹ کا ذوالقرنین سکندر اور کنول آفتاب کو دوٹوک جواب، تنازع شدت اختیار کر گیا
-
خلیجی ممالک نے عراق سے اہم مطالبہ کر دیا
-
پی ایس ایل 11 میں نیا قانون متعارف کرادیا گیا
-
مشرقِ وسطی کشیدگی؛ گیس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، ڈیلرز نے خبردار کردیا



















































