اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سالانہ 50 لاکھ ڈالر یا اپنی مجموعی فروخت کا 50 فیصد حصہ برآمد کرنےوالے ادارے لانگ ٹرم فنانس فسیلیٹی(ایل ٹی ایف ایف) سے استفادہ کرسکیں گے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لانگ ٹرم فنانسنگ کی سہولت ملکی برآمدات کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی اور سالانہ پانچ ملین ڈالر یا اپنی مجموعی فروخت کا پچاس فیصد حصہ برآمد کرنے والے مقامی ادارے/ صنعتیں اس سہولت سے استفادہ کرسکیں گے اور انہیں قرضے کی سہولت دس سال کےلئے فراہم کی جائےگی جس میں دو سال کا رعایتی عرصہ بھی شامل ہوگا۔سٹیٹ بینک نے کہا کہ ایسے ادارے تین ‘ پانچ ‘دس سال کی مختلف مدتوں کےلئے یہ سہولت حاصل کرسکیں گے اور قرضے کی اس سہولت پر شرح سود 6فیصد جبکہ ٹیکسٹائل سے منسلک اداروں کےلئے فیصد سالانہ ہوگی۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ برآمدات سے منسلک ادارے کم شرح سود پر قرضوں کے حصول سے اپنی برآمدات کو بڑھا سکیں گے جس سے نہ صرف ملکی معیشت کے استحکام بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔
تجارتی احداف حاصل کرنے کیلئے سٹیٹ بینک نے تجویز سامنے رکھ دی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بسنت کے معاملے میں
-
رمضان 2026 میں صدقۂ فطر اور فدیہ کی نئی رقوم مقرر
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، پاک بھارت میچ ہونے کا امکان
-
سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پنجاب حکومت کی بیوہ خواتین کیلئے سپورٹ کارڈ اسکیم منظور
-
پی ٹی آئی کے2 اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا
-
صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری
-
ڈرائیورز خبردار، آن لائن ٹیکسی والوں کے لیے نیا الرٹ جاری
-
اداکارراجپال یادیو قرض تنازع کیس میں تہاڑ جیل منتقل
-
سینئر صحافی بلال غوری کراچی ائیرپورٹ سے گرفتار
-
بارشوں کا نیا طاقتور سپیل پاکستان میں داخل، الرٹ جاری
-
38 سالہ سافٹ وئیر انجینئر کی گردن پر ڈور پھر گئی
-
کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور سب سے چھوٹے ہونگے؟
-
رمضان المبارک کب شروع ہوگا؟ ماہرین فلکیاتی کی اہم پیش گوئی



















































