اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سالانہ اربوں روپے کا نقصان،گندم کی منڈی کا بگاڑ دور کیا جائے،پاکستان اکانومی واچ

datetime 28  فروری‬‮  2016 |

اسلا م آ با د(نیوز ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گندم کے مارکیٹ میکنزم کا بگاڑ دور کرنے کیلئے اس پر ازسرنو غور کیا جائے اورامدادی قیمتوں کے دوبارہ تعین کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے ۔پاکستان میں چالیس فیصد سے زیادہ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں مگرگندم کی پیداوار میں خودلفالت کے باوجود دنیا میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک نیب زدہ وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کی گرتی ساکھ بچانے اور الیکشن جیتنے کیلئے کیلئے گندم کی امدادی قیمت میں ایکدم سو فیصد اضافہ کر دیا تھا جس سے گندم کی پیداوار میںاتنا اضافہ ہوا کہ سالانہ لاکھوں ٹن سرپلس گندم ضائع ہو نے لگی۔اس فیصلے سے وہ الیکشن تو نہ جیت سکے مگر پاکستان بین القوامی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کھو بیٹھا اور اسکے پاس گندم ضائع کرنے یا عالمی ادارہ خوراک کو عطیہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس تقریباً چھ لاکھ ٹن گندم کا سٹاک موجودہے جبکہ بہتر موسم کی وجہ سے امسال گندم کی پیداوار25 لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو جائے گی کیونکہ45 سے 55 ڈالر فی ٹن ایکسپورٹ سبسڈی سے بھی برامدات کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی جبکہ جنوری میں مقرر کردی 1.2 ملین ٹن کے ہدف کے مقابلہ میں صرف معمولی مقدار برامد کی جا سکی ہے۔گندم کی برامد میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔2014-15 میں صرف تین ملین ڈالر کی گندم برامد کی گئی ہے جبکہ اس سے ایل سال قبل سات ملین ڈالر کی گندم برامد کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ نئی فصل آنے، اسکی خریداری اورسٹوریج کی بہتر سہولیاٹ نہ ہونے کے سبب پرانے سٹاک کو پہنچنے والے نقصان سے حکومت کو کم از کم بیس ارب روپے کا نقصان ہو گا۔قومی خزانہ کو نقصان سے بچانے کیلئے گندم کی مارکیٹ کا ازسرنو جائزہ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…