جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

سالانہ اربوں روپے کا نقصان،گندم کی منڈی کا بگاڑ دور کیا جائے،پاکستان اکانومی واچ

datetime 28  فروری‬‮  2016 |

اسلا م آ با د(نیوز ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گندم کے مارکیٹ میکنزم کا بگاڑ دور کرنے کیلئے اس پر ازسرنو غور کیا جائے اورامدادی قیمتوں کے دوبارہ تعین کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے ۔پاکستان میں چالیس فیصد سے زیادہ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں مگرگندم کی پیداوار میں خودلفالت کے باوجود دنیا میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک نیب زدہ وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کی گرتی ساکھ بچانے اور الیکشن جیتنے کیلئے کیلئے گندم کی امدادی قیمت میں ایکدم سو فیصد اضافہ کر دیا تھا جس سے گندم کی پیداوار میںاتنا اضافہ ہوا کہ سالانہ لاکھوں ٹن سرپلس گندم ضائع ہو نے لگی۔اس فیصلے سے وہ الیکشن تو نہ جیت سکے مگر پاکستان بین القوامی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کھو بیٹھا اور اسکے پاس گندم ضائع کرنے یا عالمی ادارہ خوراک کو عطیہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس تقریباً چھ لاکھ ٹن گندم کا سٹاک موجودہے جبکہ بہتر موسم کی وجہ سے امسال گندم کی پیداوار25 لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو جائے گی کیونکہ45 سے 55 ڈالر فی ٹن ایکسپورٹ سبسڈی سے بھی برامدات کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی جبکہ جنوری میں مقرر کردی 1.2 ملین ٹن کے ہدف کے مقابلہ میں صرف معمولی مقدار برامد کی جا سکی ہے۔گندم کی برامد میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔2014-15 میں صرف تین ملین ڈالر کی گندم برامد کی گئی ہے جبکہ اس سے ایل سال قبل سات ملین ڈالر کی گندم برامد کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ نئی فصل آنے، اسکی خریداری اورسٹوریج کی بہتر سہولیاٹ نہ ہونے کے سبب پرانے سٹاک کو پہنچنے والے نقصان سے حکومت کو کم از کم بیس ارب روپے کا نقصان ہو گا۔قومی خزانہ کو نقصان سے بچانے کیلئے گندم کی مارکیٹ کا ازسرنو جائزہ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…