منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

سالانہ اربوں روپے کا نقصان،گندم کی منڈی کا بگاڑ دور کیا جائے،پاکستان اکانومی واچ

datetime 28  فروری‬‮  2016 |

اسلا م آ با د(نیوز ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گندم کے مارکیٹ میکنزم کا بگاڑ دور کرنے کیلئے اس پر ازسرنو غور کیا جائے اورامدادی قیمتوں کے دوبارہ تعین کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے ۔پاکستان میں چالیس فیصد سے زیادہ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں مگرگندم کی پیداوار میں خودلفالت کے باوجود دنیا میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک نیب زدہ وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کی گرتی ساکھ بچانے اور الیکشن جیتنے کیلئے کیلئے گندم کی امدادی قیمت میں ایکدم سو فیصد اضافہ کر دیا تھا جس سے گندم کی پیداوار میںاتنا اضافہ ہوا کہ سالانہ لاکھوں ٹن سرپلس گندم ضائع ہو نے لگی۔اس فیصلے سے وہ الیکشن تو نہ جیت سکے مگر پاکستان بین القوامی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کھو بیٹھا اور اسکے پاس گندم ضائع کرنے یا عالمی ادارہ خوراک کو عطیہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس تقریباً چھ لاکھ ٹن گندم کا سٹاک موجودہے جبکہ بہتر موسم کی وجہ سے امسال گندم کی پیداوار25 لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو جائے گی کیونکہ45 سے 55 ڈالر فی ٹن ایکسپورٹ سبسڈی سے بھی برامدات کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی جبکہ جنوری میں مقرر کردی 1.2 ملین ٹن کے ہدف کے مقابلہ میں صرف معمولی مقدار برامد کی جا سکی ہے۔گندم کی برامد میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔2014-15 میں صرف تین ملین ڈالر کی گندم برامد کی گئی ہے جبکہ اس سے ایل سال قبل سات ملین ڈالر کی گندم برامد کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ نئی فصل آنے، اسکی خریداری اورسٹوریج کی بہتر سہولیاٹ نہ ہونے کے سبب پرانے سٹاک کو پہنچنے والے نقصان سے حکومت کو کم از کم بیس ارب روپے کا نقصان ہو گا۔قومی خزانہ کو نقصان سے بچانے کیلئے گندم کی مارکیٹ کا ازسرنو جائزہ کیا جائے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…