منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری کے لیے سیاسی عدم اتفاق بڑا خدشہ بن گیا

datetime 16  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے پر سیاسی عدم اتفاق پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے والے اس منصوبے کو لاحق سب سے بڑا خدشہ ہے۔منصوبے کے راستوں اور اسپیشل اکنامک زون پر سیاسی کھینچاتانی کی وجہ سے چین نے اس منصوبے کے لیے ایران کو بطور متبادل دیکھنا شروع کردیا ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ سیاسی اور ملٹری لیڈر شپ نے اس اہم منصوبے کو لاحق تحفظات کے خاتمے کے لیے متفقہ طور پر اس منصوبے کی کلی اور بھرپور سپورٹ کررہے ہیں تاہم سیاسی عدم اتفاق اس منصوبے کے لیے بڑا خدشہ بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق چین نے ایران کو بھی اتنی ہی مالیت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کردی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین متبادل کے طور پر ایران کو دیکھ رہا ہے۔ مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات موجود ہیں اور صورتحال میں منصوبے کی مکمل تفصیل ظاہر نہ کرنا بذات خود خدشات کو جنم دے رہا ہے۔خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال بھی منصوبے پر اثر انداز ہوسکتی ہے جن میں داعش کے خلاف عراق میں جاری معرکہ، شام میں سول وار، سعودی عرب اور ایران کی دیرینہ دشمنی شامل ہیں۔ چین کی معاشی سست روی بھی منصوبے کے لیے ایک خدشہ ہے چینی معیشت میں سست روی کے اثرات عالمی معاشی منظر نامے پر بھی مرتب ہورہے ہیں، عالمی معیشت کی شرح نمو میں کمی کی پیشن گوئیاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے اس منصوبے سے حاصل ہونے والے فوائد پر بھی اثر پڑے گا۔پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی منصوبے کے لیے ایک چیلنج ہے، ماضی میں جمہوری حکومتوں کی بساط لپیٹی جاتی رہی ہے اہم موجودہ ا?رمی چیف کی جانب سے اپنی مدت میں توسیع نہ لینے کے قبل از وقت اعلان کو مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔چین کی ترجیح روڈ نیٹ ورک اور ریلوے کے نظام کو مضبوط بنانا ہے جبکہ پاکستان اس منصوبے کے ذریعے توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کا خواہش مند ہے، یہ ترجیحات بھی منصوبے پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔منصوبے میں تاخیر کے خدشا ت بھی اپنی جگہ موجود ہیں جبکہ منصوبے میں بدعنوانی اور شفافیت سے متعلق بھی خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں جن کو دور کرنے کیلیے عدلیہ اور میڈیا کے متحرک کردار کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…