پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مارک اپ ریٹ کم ترین سطح پرہونے کے باوجود صارف قرضوں پر بلندشرح سود کی وصولی

datetime 1  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان میں شرح سود کم ترین سطح پر آنے کے باوجود صارف قرضوں پر بلند شرح سود وصول کی جارہی ہے۔ گھریلو مصنوعات کی خریداری، کریڈٹ کارڈز اور پرنسل لونز کی مد میں قرضوں کے اجرا میں اضافے کی شرح بھی محدود ہے جس کی وجہ سے گھریلو برقی آلات کی خریداری بھی جمود کا شکار ہے۔کراچی الیکٹرونکس اینڈ اسمال ٹریڈز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان کے مطابق شہر میں بجلی کے بلوں کی اوور بلنگ، وولٹیج میں کمی بیشی اور بینکوں کی جانب سے صارف قرضوں کے اجرا پر بدستور بلند شرح سود کی وجہ سے برقی مصنوعات کی فروخت دباو¿ کاشکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے چینی ساختہ الیکٹرونک مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے۔نئے سیزن کی آمد پر اسپلٹ ایئرکنڈیشنرز کی قیمتوں میں 4سے 5ہزار روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، ایک ٹن کے اسپلٹ کی قیمت 36ہزار سے کم ہوکر 32ہزار جبک ڈیرھ ٹن کے اسپلٹ کی قیمت 42ہزار سے کم ہوکر 38ہزار روپے پر آچکی ہے، اس کے باوجود فروخت میں اٹھان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کراچی میں گرمی کی بدترین لہر کے دوران ایک ہفتے میں 50ہزار سے زائد اسپلٹ اے سی فروخت کیے گئے، اس سال گرمی کی لہر کی پیش گوئی کی وجہ سے شہریوں میں اضطراب پایا جاتا ہے لیکن قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے خریدار فیصلہ نہیں کرپارہے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ موسم گرما کی آمد سے قبل بینکوں کو گھریلو مصنوعات کی خریداری، کریڈٹ کارڈز اور ذاتی قرضوں پر شرح سود میں کمی لانے کا پابند بنایا جائے تاکہ شہری آنے والے سخت موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے جنریٹرز، پنکھوں، چارج ایبل مصنوعات، اسے سی وغیرہ کی خریداری کرسکیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…