اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیسپاک نےملک میں 15اور 21جنوری کے بجلی کے دو بڑے ڈاونز کی انکوائری مکمل کرلی ہے ،جس میں بریک ڈاﺅن کا ذمہ دار جنرل منیجر جینکو سبز علی خان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔گزشتہ روز جامشورو میں ہائی ٹینشن لائن ٹرپ ہونے سے کراچی میں طویل بریک ڈاون رہا ،شہریوں کو دن بھر مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ نیسپاک نے 15اور 21جنوری کو ہونے والے بجلی کے 2بڑے بریک ڈاﺅنز جن کی وجہ ملک کا بڑا حصہ کئی گھنٹے تک اندھیرے میں ڈوبا رہا کی انکوائری مکمل کرکے جنرل منیجر جینکو کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔وزارت پانی و بجلی نے انکوائری کے لیے نیسپاک کو کنسلٹنٹ مقرر کیا،جس کے انجینئرز اور ماہرین نے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزارت پانی و بجلی کو بھجوا دی۔رپورٹ کے مطابق بریک ڈاون کے ذمہ دار جنرل منیجر جینکو سبز علی خان ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 جنوری کو سسٹم پر دھند سے بچاو کے انسولیٹرز نہیں لگے ، جس کی وجہ سے بریک ڈاون ہوا، اس بریک ڈاون کے بعد اقدامات کیے جاتے تو 21 جنوری کے بریک ڈاون کا واقعہ پیش نہ آتا۔رپورٹ کے مطابق 10 ماہ سے اسٹورز میں انسولیٹرز موجود نہیں، اور نا ہی ان کی خریداری کے لیے ارڈر دیا گیا، 4 چیف انجینئرز نے اس جانب نشاندہی کی تھی، لیکن جی ایم سبز علی خان نے توجہ نہیں دی
نیسپاک تحقیقات مکمل :15اور 21جنوری کے بریک ڈاﺅنز کا ذمہ دار ’جی ایم جینکو‘ قرار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا
-
وفاقی حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے اہم فیصلہ
-
موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
لاپتہ ہوٹل مالک کو کھانے والا 15 فٹ لمبا مگرمچھ دریا سے نکال کر ہلاک کر دیا گیا
-
تیزہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
نواز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا
-
سرکاری ملازمین کیلیے عید الاضحیٰ سے قبل بڑی خوشخبری
-
لاہور،رکشہ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاکر 2لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
-
سی ڈی اے نے 98 غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کی فہرست جاری کر دی
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ! حکومت نے والدین کی بڑی مشکل آسان کردی
-
امریکی حکومت خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر لے آئی
-
بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار ہوجائیں!



















































