پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا کپاس کی درآمد پر عائد سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی واپس لینے پر غور

datetime 29  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے کپاس کی درآمد پر عائد 5 فیصد سیلز ٹیکس اور 3 فیصد کسٹمز ڈیوٹی واپس لینے پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ سوتی دھاگے کی درآمد پر 10فیصد ریگولیٹری عائد کرنے کی تجاویزبھی زیر غور ہے دستیاب دستاویز کے مطابق برآمدی انڈسٹری کی جانب سے وفاقی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ ملک کی گرتی ہوئی برآمدات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدی اشیا کی پیداواری لاگت میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کر سکیں۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو برآمدی صنعت کی تجاویزکا جائزہ لے رہا ہے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وزارت خزانہ کی منظوری کے بعد ہو گا۔ذرائع کے مطابق برآمدی انڈسٹری نے تجویز دی ہے کہ رعایتی قیمتوں پر سینتھیٹک یارن اور فیبرکس کی درآمد سے انڈسٹری بری طرح متاثر ہورہی ہے لہٰذا حکومت مقامی انڈسٹری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سوتی دھاگے کی درآمد پر 10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرے، 1ارب ڈالر مالیت کا دھاگہ اور فیبرکس رعایتی قیمت پر درآمد کیے جانے والے سینتھیٹک فائبرز سے تیار کیے جارہے ہیں لہٰذا اگر حکومت مختلف ایچ ایس کوڈ کے ذمرے میں آنے والے دھاگوں اور فیبرکس کی درآمد پر 10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹٰ عائد کرتی ہے تو اس سے حکومت کے ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔دستاویز میں کہا گیاکہ رواں مالی سال کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہونے سے کپاس کا پیداواری ہدف حاصل نہیں ہو گا، اب تک کپاس کی پیداوار میں 40 لاکھ گانٹھ کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پاس مصنوعات کی تیاری کے لیے درکار خام مال کی ضرورت پوری کرنے کے لیے روئی درآمد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں جبکہ حکومت نے کپاس کی درآمد پر 5 فیصد سیلز ٹیکس اور 3 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کررکھی ہے۔جس سے خام مال مہنگا ہونے کے باعث پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے لہٰذا حکومت کپاس کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی واپس لے۔ ۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…