پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

اسٹیٹ بینک نے قرضہ پراپرٹی تبدل کیلئے ضوابط جاری کر دئیے

datetime 2  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسٹیٹ بینک نے قرضہ پراپرٹی تبدل (ڈی پی ایس) کے لیے ضوابط جاری کر دئیے۔اسٹیٹ بینک بینکاری ضوابط اور طریقوں میں پائیداری کو یقینی بنانے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے سرگرمی کے ساتھ نمٹنے کے لیے بینکوں/ڈی ایف آئیز کو باقاعدگی سے ہدایات جاری کرتا رہتا ہے۔ اس وقت قرضہ پراپرٹی تبدل (swap) کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر، قرضہ پراپرٹی تبدل پر ضوابط کے ایک الگ مجموعے کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ بینکاری صنعت کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑھتے ہوئے اکتشاف (exposure) کی بہتر انداز میںنگرانی کی جا سکے، قرضہ پراپرٹی تبدل (ڈی پی ایس) کے لیے ضوابط کے ذریعے۔ان ضوابط کا مقصد ڈی پی ایس لین دین کے لیے کم از کم معیارات کا تعین کرنا اور غیر فعال قرضوں (NPLs) کے تصفیے (settlement) کے خطرات کو کم سے کم کرنا ہے۔ ڈی پی ایس ضوابط ان کے اجرا کی تاریخ سے نافذالعمل ہوں گے، اور جن کا لین دین پروسیس میں ہے، انہیں بھی ان ضوابط کے مطابق نمٹایا جائے گا، جہاں یہ قابل اطلاق ہوں گے۔ جن بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں کے پاس ان ضوابط کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کا مناسب سسٹم اور طریقہ کار موجود نہیں ہے انہیں تین ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے جو اِن ہدایات کے اجرا کی تاریخ سے شروع ہو گی کہ وہ مطلوبہ سسٹم اور طریقہ کار کو ڈھال لیں اور /یا تیار کر لیں جو بینک / ترقیاتی مالی ادارے مجوزہ حدود کے اندر ہیں وہ ان کی پابندی کریں گے، اور جن کا اکتشاف ان حدود سے زائد ہے وہ تین ماہ کے اندر ایک تفصیلی منصوبے کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کریں گے، منصوبے میں یہ بیان کیا گیا ہو گا کہ اکتشاف کے بینچ مارکس کی تعمیل زیادہ سے زیادہ دو سال کی مدت میں کر لی جائے گی۔ قرضہ پراپرٹی تبدل (ڈی پی ایس) ضوابط مالی اداروں (ریکوری آف فنانسز) آرڈیننس 2001ءسمیت تمام قابلِ اطلاق قوانین کے علاوہ ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…