اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستانی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔وفاقی حکومت نے ٹیکسوں سے جو کمایا، قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ کر دیا۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی قرضوں کا حجم 181 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 161 کھرب روپے تھی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق کشکول اب دیگ میں بدل گیاہے۔ ہر سال سارا ترقیاتی بجٹ قرض پر ہی بنایا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں بھی 13 کھرب روپے کے لگ بھگ رقم قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو گی اور مستقبل میں اس خرچ سے جان چھوٹنے والی نہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پاکستان اسی رفتار سے قرض لیتا رہا تو 2018 تک پاکستان پر بیرونی قرضے 65 ارب ڈالر سے بڑھ کر 90 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
پنجاب، کے پی، بلوچستان، آزاد کشمیر، جی بی میں بارشوں اور سیلاب کا الرٹ



















































