پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اپٹما کا حکومتی رویے کے خلاف ہفتہ وار ہڑتال کرنے کا اصولی فیصلہ

datetime 6  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک ) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)کی جنرل باڈی کے گزشتہ روز اجلاس میں ہفتے میں1 دن ٹیکسٹائل ملز کی ہڑتال کی تجویز کو ممبرز اصولی طور پر منظور کر لیا ہے تاہم ملتان میں بلدیاتی انتخابات کے باعث وہاں کے ممبرز کی اجلاس میں عدم شمولیت کے باعث اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
اب ہفتے میں 1روز ہڑتال کا اعلان ممبرز کے آئندہ جنرل باڈی اجلاس میں کیا جائے گا۔ دریں اثنا اپٹما پنجاب کے چیئرمین عامر فیاض نے گروپ لیڈر گوہر اعجاز اور دیگر کے ہمراہ گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضے لینے کو تیار ہے لیکن اپنی صنعت کی بحالی کے لیے کوئی عملی اقدامات کرنے کو تیار نہیں، حکومتی رویے کے خلاف ہفتے میں 1 روز ملیں بند کریں گے۔
اپٹما رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ حکومت نے شوگر انڈسٹری کے لیے بیل آو¿ٹ پیکیج کا اعلان کیا ہے لیکن ملک کی سب سے بڑی صنعت اور روزگار فراہم کرنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ عامر فیاض نے کہاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کوتباہ کیا جارہا ہے، گزشتہ 2 سال میں 2 لاکھ مزدور بے روزگار ہو چکے، ٹیکسٹائل سیکٹر کے مسائل حل کرنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں جبکہ حکومت آئی ایم ایف سے قرض لے کر ہماری پشتوں کو مقروض کر رہی ہے۔
55 فیصد ٹیکسٹائل صنعت ایکسپورٹ سے وابستہ ہے اور حکومت کے سنجیدہ نہ ہونے کے باعث اب تک پنجاب کی 70 ملیں بند ہو چکی ہیں، لگتا ہے کہ حکومت کو پوری ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہونے کا انتظار ہے اور اگر یہ صنعت بند ہو گئی تو ڈیڑھ کروڑ مزدوروں کو روزگار کون فراہم کرے گا۔ اپٹما کے مرکزی سینئر نائب صدر شاہد مظہر نے کہاکہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایکسپورٹ میں کمی آئی۔
اگر ٹیکسٹائل سیکٹر کے مسائل حل نہ ہوئے تو 1 سال میں ایکسپورٹ 4 ارب ڈالرگرجائے گی، حکومت سیلز ٹیکس ری فنڈ کا مسئلہ بھی حل کرنے کو تیار نہیں جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری بغیرکسی وزیر کے چل رہی ہے۔ پریس کانفرنس میں ایس ایم تنویر، احسن بشیر، سید علی احسان، سیٹھ محمد اکبر، جاوید اقبال، علی پرویز ودیگر ممبران موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…