منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

ود ہولڈنگ ٹیکس کسی بھی صورت واپس نہیں لیا جا ئے گا ، وزیر خزانہ

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

فیصل آباد(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے اسے کسی بھی صورت واپس نہیں لیا جاسکتا اگر ایسا کیا گیا تو بین الاقوامی ادارے سے لئے گئے قرضہ جات کی واپسی میںنہ صرف مشکلات حائل ہونگی بلکہ قرضوں کے حصول کیلئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ بات وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس بریفنگ میں بتائی جس میں ملک بھر کے تاجر تنظیموں اور خاص کر لاہور کی تنظیموں کی طرف سے بینکوں کے لین دین پر لگائی جانے والی 0.6فیصد کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ آن لائن کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ پچیس لاکھ تاجر کام کررہے ہیں اور صرف نو لاکھ کے لگ بھگ تاجروں نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کیا ہوا ہے جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اگر تاجر حضرات پچاس لاکھ روپے تک اپنا نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کرلیں تو ملک کو قرض لینے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس طرح بجٹ کا خسارہ بھی ختم ہوجائے گا وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک اور آئی ایم ایف ورلڈ بینک ہر ملک کی آبادی یہاں پر کاروبار کرنے والے تاجروں کے بارے میں بینکوں کے اکاﺅنٹس کے حساب سے اندازہ لگاتا ہے اور جن تاجروں اور کاروبار کرنے والے حضرات نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کرکے اپنے اندراج کرایا ہوگا ان کو ترجیح دے کر اس ملک کی آمدنی اور خسارے کا بخوبی وہ اندازہ لگاتے ہیں اگر ٹیکس دینے والے کی تعداد ملکی آبادی کے مطابق صحیح ہو تو دنیا بھر کے تمام ممالک اس ملک کو نہ صرف اہم مقام دیتے ہیں بلکہ اس ملک میں بزنس اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے بھی وہ ترجیح دیتے ہیں بلکہ بعض ایسے ممالک بھی ہیں جہاں ٹیکس ہولڈر زیادہ ہوتے ہیں وہاں ممالک کو بلاسود قرضہ جات دینے میں بھی اپنے سرمائے یا دولت کو محفوظ رکھتے ہیں اس لئے حکومت پاکستان یا وزارت خزانہ کسی بھی صورت میں ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے اسے واپس نہیں لے گی اگر حکومت نے ٹیکس لینے کیلئے ایسا کیا تو ملک مزید مسائل سے دو چار ہوگا جس کا وہ متحمل نہیں ہوسکتا ۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…