منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ٹی سی پی روئی بیچنے میں ناکام، کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(ٹی سی پی) کی جانب سے روئی کی 84 ہزار600بیلز کی فروخت کے لیے جاری کردہ ٹینڈرز میں مسلسل دوسری مرتبہ کسی بھی ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ ٹی سی پی کی جانب سے کاٹن سال 2014-15 میں مخصوص کاٹن جنرز کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے روئی کی خریداری کی گئی تھی لیکن ٹیکسٹائل سیکٹر کی عدم دلچسپی کے باعث ٹی سی پی کوکروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن سال2014-15 کے اختتام سے کچھ عرصہ قبل جب ساری پھٹی کسانوں سے جننگ فیکٹریوں میں پہنچ گئی تو ٹی سی پی نے مبینہ طور پر کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا جواز بناکر مخصوص کاٹن جنرز سے 6 ہزار 864 روپے فی من کے حساب سے تقریباً 95 ہزار بیلز روئی خریدی جبکہ اوپن مارکیٹ میں اس وقت روئی کی قیمت زیادہ سے زیادہ 5ہزارروپے فی من تک تھی، یوں ٹی سی پی نے کسانوں کے نام پر بعض کاٹن جنرز کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا جبکہ مبینہ طور پر ٹی سی پی کے بعض اہلکاروں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔
انہوں نے بتایاکہ ٹی سی پی اس روئی کی فروخت کے لیے اب تک جاری کیے گئے 6ٹینڈرز میں صرف 10 ہزار800بیلز فروخت کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جن کی زیادہ سے زیادہ قیمت فروخت 5ہزارروپے فی من تک تھی جبکہ گزشتہ روز اوپن ہونے والے ٹینڈرز کے لیے ٹی سی پی نے ریزرو پرائس 4 ہزار 844 روپے فی من مختص کی تھی لیکن اس کے باوجود کسی ٹیکسٹائل مل نے روئی کی خریداری میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، خدشہ ہے کہ اگر ٹی سی پی روئی 4 ہزار 900روپے فی من تک بھی فروخت کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پھر بھی ٹی سی پی کے 70سے75کروڑروپے ڈوبنے کا خدشہ ہے جو دراصل عوام کے ٹیکسز کا پیسہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…