منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے گوادر میں ایل این جی ٹرمینل اور پاک۔ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے کام شروع کردیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے گوادر میں ایل این جی ٹرمینل اور پاک۔ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے کام شروع کردیا ہے اس حوالے سے انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کمپنی نے دو ارب پچاس کروڑ ڈالر مالیت کے گوادر ایل این جی ٹرمینل اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کی ٹیکنیکل بڈ کھول دی، چینی کمپنی چائنا پٹرولیم پائپ بیورو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ بنیاد پر کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے کا عمل نومبر میں مکمل کرلیا جائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق وزارت پٹرولیم کی ماتحت کمپنی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کے ایم ڈی مبین صولت کے مطابق پیپرا قوانین کے تحت حکومت سے حکومت کی بنیادوں پر چین کی سرکاری کمپنی چائنا پٹرولیم پائپ بیورو نے ٹیکنیکل اور کمرشل بڈ جمع کروادی ہے۔انٹرسٹیٹ گیس سسٹم نے ٹیکنیکل بڈ کھولنے کی بعد تمام دستاویز کی اسکریننگ کرلی ہے۔بڈ دستاویز کا انٹرنیشنل کنسلٹنٹ جائزہ لے گا اور ٹیکنیل کوالیفکیشن کے بعد کمرشل بڈ نومبرمیں کھولی جائے گی۔چینی کمپنی چائنا پٹرولیم پائپ بیورو گوادر میں 500 ملین کیوبک فٹ یومیہ صلاحیت کا ایل این جی ٹرمینل اور جدید فلوٹنگ سٹوریج ری گیسیفکیشن یونٹ تیار کرے گی۔ یہ کمپنی گوادر تا نوابشاہ 700 کلو میٹر ایران پاکستان گیس پائپ تعمیر کرے گی جس کی صلاحیت 1?5ارب کیوبک فٹ ہوگی۔مبین صولت کے مطابق ان دونوں منصوبوں کی لاگت کا تخمینہ ڈھائی ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے۔ 85فیصد سرمایہ کاری چینی کمپنی جبکہ 15فیصد ایکویٹی حکومت پاکستان شامل کرے گی۔اس منصوبے کیلئے چینی کمپنی ایگزم بنک سے قرض حاصل کرے گی جسے پاکستان اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدنی سے سے آئندہ 20 سالوں میں ادا کرے گا۔میبن صولت کے مطابق عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد گوادر سے ایرانی سرحد تک 80 کلو میٹر کی پائپ 6 سے 8 ماہ میں تعمیر کی جائے گی۔ایران سے حاصل ہونیوالی گیس گوادر تا نوابشاہ پائپ لائن کے ذریعے ٹرانسمیشن سسٹم میں شامل کی جائے گی۔ایران سے ابتدائی طور پر 700 ملین کیوبک فٹ گیس ملے گی جس سے ایک ارب کیوبک فٹ یومیہ تک بڑھایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ ایل این جی ٹرمینل اور گوادرتا نوابشاہ پائپ لائن پاک ۔ چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہے اور یہ دونوں منصوبے دسمبر 20174 تک مکمل کئے جائیں گے۔میبن صولت کے مطابق چینی کمپنی 30 فیصد کام پاکستان انجینئرنگ کونسل کی منظور شدہ پاکستانی کمپنیوں سے کروانے کی پابند ہوگی۔ ان دونوں منصوبوں کیلئے خصوصی سیکیورٹی کا انتظام کیا جائےگا۔پائپ لائن اور ٹرمینل پر پاکستانی سیکورٹی اداے سیکورٹی کی خدمات فراہم کریں گے جبکہ چینی کیمپ کے اندر چین کی سیکورٹی کمپنی کام کرےگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…