منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ روپے کی قدر کافی کم ہو چکی ہے اور اس میں مزید کمی ملکی مفاد کے خلاف ہوگی۔برامدت بڑھانے کیلئے روپے کی قدر کے بجائے کاروباری لاگت کم کرنا ہو گی جس میں توانائی کی قیمت، ٹیکسوں میں چھوٹ اورپھنسے ہوئے ریفنڈز کی ادائیگی شامل ہے۔ اسکے علاوہ ٹڈاپ میں بنیادی تبدیلی جبکہ بیرون ملک سفارتخانوں میں سفارش کی بنیاد پر نا اہل کمرشل قونصلرز کے تقرر کا کلچر تبدیل کرنا ہوگا۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ روپے کی قدر کم کرنے سے درامدات جو برامدات سے دگنی ہیں کی قیمت بڑھنے کے علاوہ قرضہ اور اسکے سود میں بھی اضافہ ہو گا جبکہ افراط زر بڑھ جائے گا۔اسکے علاوہ آئل، خوردنی تیل، مشینری اور دیگر اشیاءکی قیمت بھی بڑھے گی جس سے مہنگائی کا سی؛اب آ جائے گا۔روپے کے موجودہ زوال سے غیر ملکی قرضوں میں 248 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے ۔اگر ڈالر 110 روپے کا ہو گیا تو غیر ملکی قرضوں میں 620 ارب روپے کا اضافہ ہو جائے گا اور اسکا سود بھی اسی تناسب سے بڑھے گا جس سے ملکی خزانہ دباﺅ کا شکار ہوجائے گا کیونکہ اس وقت کل جمع شدہ محاصل کا 44 فیصد قرضوں کے سود کی نزر ہو رہا ہے۔2012-13 میں ایکسپورٹ ٹو جی ڈی پی کا تناسب 10.7 فیصد تھا جو 2013-14 میں 10.3 فیصداور 2014-15 میں 8.9فیصد تک گر کیا جو برامدی شعبہ کی زبوں حالی کا ثبوت ہے مگر ٹیکسٹائل کے شعبہ کے مفاد کیلئے بیس کروڑ عوام کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…