منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

آخرکارایرانی ڈیزل پرہاتھ ڈال ہی لیاگیا

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس (اے ایس او)کراچی نے گذشتہ روز ایک کامیاب کاروائی میں نیو کراچی میں واقع ایک گودام پر کامیاب چھاپا مارکر ناجائز طور پر رکھے گئے 40,000 لیٹرز سے زائد اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل قبضے میں لے لیا۔ یہ ڈیزل پلاٹ نمبر 29-D ، سیکٹر 12-Cانڈسٹریل ایریا، صبا سینما کے قریب نیو کراچی میں بنائے گئے زمینی ٹینک میں رکھا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس جگہ کے قرب و جوار میں رہائشی اور صنعتی علاقے بھی واقع ہیں یہاں کثیر آبادی ہے ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلی جنس محمد آصف مرغوب صدیقی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ڈیزل آتش گیر مادہ ہوتا ہے اور اس طرح کی صورتحال میں اس بات کا شدید اندیشہ تھا کہ اگر اس میں کسی وجہ سے بھی خدانخواستہ آگ لگ جاتی تو علاقے اور شہری آبادی کو ہولناک تباہی کا سامنا کرنا پڑتا جس سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی شدید خطرہ تھا ۔ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس پلاٹ پر کسی بھی طرح اس طرح کے غیر قانونی کام میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے تھا کسٹم انٹیلی جنس نے قانونی کاروائی کرتے ہوئے نیو کراچی انڈسٹریل انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود میں واقع اس جگہ کو سیل کردیا ہے جو مبینہ طور پر امتیاز نامی ایک شخص کی ملکیت بتائی جاتی ہے ۔ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس پلاٹ میں اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل چھوٹی گاڑیوں میں بنائے گئے خفیہ ٹینکوں کے ذریعے لاکر ذخیرہ کیا جاتا تھا اس سلسلے میں ایک گاڑی نمبر TKE-788کو بھی پکڑا گیا ہے جس میں تقریباً 6900 ڈیزل موجود تھااور اُس کو اس گودام میں اتارا جارہا تھا اس سلسلے میں فوری طورپر (FIR) درج کرکے رستم زماں نامی شخص کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے اور تحقیقات کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جارہا ہے ضابطہ کی کاروائی کرکے متعلقہ عدالت میں کیس کا چالان بھی پیش کیا جائے گا ۔ محمد آصف مرغوب صدیقی نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں کمشنر کراچی، CCPOکراچی اور رینجرز کے اعلیٰ حکام کو بھی آگاہ کیا جارہا ہے تاکہ اس غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ ڈائریکٹر کے مطابق شہری اور صنعتی علاقوں کے درمیان اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل رکھنے کے خلاف یہ اپنی نوعیت کی واحد کاروائی ہے جس کے دوران ایک طرف تو اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور دوسری نوعیت کی واحد کاروائی ہے جس کے دوران ایک طرف تو اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور دوسری طرف علاقے اور آبادی کو بڑی ہونے والی ممکنہ تباہی سے بچالیا گیا۔محمد آصف مرغوب صدیقی نے بتایا کہ یہ ساری کاروائی ایڈیشنل ڈائریکٹر ندیم احسن کی نگرانی میں کی گئی ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر نے ٹیم کے تمام افراد بشمول اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ، سپرنٹنڈنٹ رفعت حسین، حاجی اسلم، اکمل ہاشمی، منور علی اور سیف ہاشمی کو کامیاب چھاپے پر تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…