منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو کیش نظام جدید بنانیکی ہدایت

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں میں نقد رقوم کے انتظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع ہدایات جاری کر دی ہیں۔یہ ہدایات نقد رقوم کے انتظام کو دستی (مینوئل) کے بجائے خود کار بنانے اور زیر گردش بینک نوٹوں کے معیار میں بہتری لانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔اس ضمن میں 26 اگست 2015کو جاری کردہ سرکلر نمبر ایف ڈی 03/2015 کے مطابق 2 جنوری 2017سے تمام بینک اپنی شاخوں/اے ٹی ایمز سے اپنے صارفین/عوام کو صرف مشین سے توثیق شدہ اور چھانٹی گئی نقد رقوم دیں گے۔اس مقصد کے لیے بینک خصوصی ’کیش پروسیسنگ سینٹرز‘ قائم کریں گے جن میں نقد رقوم کی پروسیسنگ اور ذخیرہ کاری کی جدید ترین سہولتوں سے مزین مشینیں موجود ہوں گی، اس کے بجائے بینک یہ بھی کرسکتے ہیں کہ اپنی نقد مہیا کرنے والی شاخوں پر نقد کی پروسیسنگ کی مطلوبہ سہولتیں فراہم کریں یا دیگر بینکوں/کیش پروسیسنگ سینٹرز سے مل کر اپنی نقد رقوم کی پروسیسنگ کا بندوبست کریں۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے بین البینک مبادلے / نقد لین دین کا طریقہ کار بھی متعارف کرایا ہے جس کے تحت 2 جنوری 2017سے تمام بینک دوسرے بینکوں سے براہِ راست نقد لے سکیں گے اور ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن (ایس بی پی، بی ایس سی)ونڈو کو صرف آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے گا یعنی جب نقد کی قلّت ہو تو یہ ونڈو بینکوں کو نقد فراہم کرے گی اور جب مارکیٹ میں اضافی نقد رقوم موجود ہوں گی تو جذب کیا جا سکے گا۔2 جنوری 2017سے یہ طریقہ کار رائج ہونے سے موجودہ طریقہ ختم ہو جائے گا جس کے تحت بینک دوبارہ اجرا کے قابل (ری ایشوایبل) بینک نوٹ ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر میں جمع کراتے ہیں۔ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر اضافی رقم آخری چائرہ کار کے طور پر صرف اس وقت قبول کریں گے جب یہ رقم بین البینک مارکیٹ میں استعمال نہ ہو سکے گی اور اس پر بھی مجموعی مالیت کا 0.12 فیصد سروس چارجز وصول کیا جائے گا، تاہم ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر بینکوں سے خراب/ ناکارہ بینک نوٹ بدستور وصول کرتے رہیں گے۔موجودہ انتظام سے نئے انتظام پر آنے کا عمل ترتیب وار کیا جائے گا۔توقع ہے کہ ان ہدایات پر موثر عملدرآمد سے ملک میں نقد رقوم کے انتظام میں تبدیلی اور جدت پیدا ہو گی، کارگزاری اور شفافیت آئے گی، نوٹوں کی جعلسازی کو روکا جا سکے گا اور زیرِ گردش کرنسی نوٹوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…