منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ سے کیا نقصان ہوا؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)چیئرمین لاہور ٹاﺅن شپ انڈسٹریز ایسوسی ظہیر بھٹہ ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا ہے کہ بینکنگ ٹرانزیکشنز پر ودھ ہولڈنگ ٹیکس وصولی کے بعد نجی کاروبار تیزی سے نقد لین دین اور متبادل ذرائع پر منتقل ہورہا ہے ،ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے باعث بنکوں سے 200ارب کے ڈیپازٹ ختم ہونا تشویشناک ہے جبکہ اس ٹیکس کے باعث بنکوں کی ٹرانزکشن میں30فیصد کمی واقع ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام بنکوں نے اسٹیٹ بنک کو اس سلسلہ میں تحریری طور پر اپنی پریشانی سے بھی آگاہ کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خالد افضل شیخ سینئر وائس چیئرمین ،نعمان حسین وائس چیئرمین کے ساتھ ٹاﺅن شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا کہ اپنی ہی بنکوں میں جمع رقم پر لین دین پر حکومت کی طرف سے ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے منفی اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں کاروباری حضرات کی جانب سے سے بنکوں میں رقوم جمع کروانے اور ڈیپازٹ نکلوانے کے رجحان سے بنکنگ سیکٹر تباہ ہورہا ہے اس لیے حکومت فی الفور تاجروں کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ ٹیکس واپس لے ۔ظہیر بھٹہ نے کہا کہ صنعتکار برادری ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے بارے میں تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت بنکوں سے لین دین پر فی الفور ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمہ کا اعلان کرے ورنہ اگر یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں جب بنک دیوالیہ ہوجائیں گے اور حکومت کو فائدہ کی بجائے الٹا نقصان اٹھانا پڑے گا ا س لیے حکومت تاجر برادری کے احتجاج کو سنجیدگی سے لے اور یہ ٹیکس واپس لے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…