منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ٹیکسٹائل سیکٹرکابحران معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان کوجی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے باوجود ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں غیرمعمولی کمی اورتوانائی ودیگرمشکلات کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملزکی بندش جیسے عوامل سے مقامی کاٹن انڈسٹری کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں کیونکہ ان منفی عوامل کے سبب مقامی مارکیٹ میں روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ مندی کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں مگر ٹیکسٹائل وکاٹن انڈسٹری کے غیرمعمولی بحران میں مبتلاہونے کے باوجود گزشتہ 6 ماہ سے پاکستان میں وفاقی وزیرٹیکسٹائل کی تعیناتی نہ ہوسکی۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کے تقریباً ڈیڑھ سال قبل پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے ملنے والے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے بعدتوقع تھی کہ اس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 100 فیصد کے اضافے سے 13ارب ڈالرسے بڑھ کر26ارب ڈالرتک پہنچ جائیں گی جس سے روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا اور کسانوں کی فی ایکٹرآمدنی بھی بڑھے گی لیکن اس کے برعکس حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل وکاٹن انڈسٹری اس وقت تاریخ کے بدترین بحران میں مبتلا ہے جس سے پاکستان بھرمیں تشویش کی لہردیکھی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی برآمدات میں 50فیصدسے زیادہ حصہ رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وزارت گزشتہ 6 ماہ سے خالی ہے جبکہ توانائی کے غیر معمولی بحران، انتہائی کم ڈیوٹی پر بھارتی سوتی دھاگے کی درآمد اور اربوں روپے کے ریفنڈز جاری نہ ہونے سے حکومت کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اگرہنگامی بنیادوں پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل حل نہ کیے توہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں مزید کمی واقع ہونے سے ملکی اورزرعی معیشت بھی غیرمعمولی مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…